بالی ووڈ میں فلم ڈان 3 کا تنازع ایک بڑے انڈسٹریل بحران کی شکل اختیار کر گیا ہے، جس کے بعد اداکار رنویر سنگھ پر فلمی صنعت میں کام کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سنی ایمپلائز نے اعلان کیا ہے کہ جب تک اداکار رنویر سنگھ ہدایتکار فرحان اختر کے ساتھ مبینہ 45 کروڑ روپے کے نقصان کے معاملے کو حل نہیں کرتے، اس وقت تک کسی بھی پروڈکشن ہاؤس کو ان کے ساتھ کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب پروڈکشن کمپنی ایکسل انٹرٹینمنٹ نے الزام عائد کیا کہ رنویر سنگھ نے تین فلموں کے معاہدے کے باوجود آخری وقت پر ڈان 3 سے علیحدگی اختیار کر لی، جس کے باعث بھاری مالی نقصان ہوا۔
پروڈیوسرز کا مؤقف ہے کہ اداکار کو تمام پری پروڈکشن اخراجات کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے، تاہم ثالثی کی کوششیں ناکام رہیں۔ رنویر سنگھ نے کہا ہے کہ یہ معاملہ کسی قانونی فورم پر حل ہونا چاہیے۔
فیڈریشن کا کہنا ہے کہ فلم انڈسٹری ایک مشترکہ خاندان کی مانند ہے اور اچانک علیحدگیاں پورے نظام کو متاثر کرتی ہیں، اس لیے ایسے رویے قابل قبول نہیں۔ تنظیم کے چیف ایڈوائزر اشوک پنڈت نے بھی سخت موقف اختیار کیا ہے۔
پابندی کے اعلان کے بعد رنویر سنگھ نے ردعمل میں کہا ہے کہ وہ فلمی صنعت اور ڈان فرنچائز سے وابستہ تمام افراد کا احترام کرتے ہیں اور پیشہ ورانہ معاملات کو وقار کے ساتھ حل کرنے کے حامی ہیں۔
یاد رہے کہ ڈان فرنچائز میں اس سے قبل شاہ رخ خان مرکزی کردار ادا کرتے رہے ہیں، جبکہ 2023 میں رنویر سنگھ کو ڈان 3 کے لیے سائن کیا گیا تھا۔ بعد ازاں ان کی علیحدگی کے بعد یہ تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔







