امریکا کا ایرانی وزیر خارجہ کو ویزا دینے سے انکار، اقوام متحدہ اجلاس میں شرکت روک دی گئی

امریکا نے ایرانی وزیر خارجہ کو اقوام متحدہ اجلاس میں شرکت کے لیے ویزا جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس کے باعث وہ اہم سلامتی کونسل اجلاس میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ Abbas Araghchi نیویارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس میں شرکت نہیں کر سکیں گے کیونکہ امریکی حکومت نے انہیں ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے۔
یہ اجلاس اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے تحفظ اور عالمی نظام کو مضبوط بنانے کے موضوع پر منعقد کیا جا رہا ہے، جو اس وقت مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران و امریکا کے تعلقات کے تناظر میں انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اجلاس چین کی صدارت میں منعقد ہوگا اور اس کی قیادت چین کے وزیر خارجہ Wang Yi کریں گے۔ چین نے اس اجلاس کو عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی دباؤ کے باعث اہم قرار دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان کی نمائندگی اس اجلاس میں پاکستان کے وزیر خارجہ Ishaq Dar کریں گے، جو مختلف عالمی رہنماؤں اور اقوام متحدہ کے حکام سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی تصدیق کی ہے کہ ویزا مسائل کے باعث عباس عراقچی اجلاس میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔ سفارتی ماہرین کے مطابق ایران چونکہ سلامتی کونسل کا رکن نہیں، اس لیے انہیں خصوصی دعوت پر مدعو کیا گیا تھا، مگر ان کی عدم موجودگی سے ممکنہ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا امکان بھی ختم ہو گیا ہے۔ چینی حکام کے مطابق اجلاس میں کثیرالجہتی سفارت کاری، اقوام متحدہ کے کردار کو مضبوط بنانے اور عالمی تنازعات کے حل کے لیے مذاکراتی راستوں پر زور دیا جائے گا۔ پاکستان کی جانب سے بھی پرامن حل اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی حمایت کا مؤقف اختیار کیے جانے کی توقع ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio کی شرکت سے متعلق حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں