ایران کی مسلح افواج کے ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نئی جارحیت کی صورت میں ایران کی جانب سے پہلے سے زیادہ سخت اور شدید ردعمل دیا جائے گا۔
ایرانی مسلح افواج کے ترجمان کے مطابق ایران ہر قسم کے خطرات اور حملوں کا مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور آئندہ کسی بھی فوجی کارروائی کی صورت میں ردعمل ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اگر خطے میں نئی جنگ مسلط کی گئی تو ایران کا جواب نہ صرف شدید ہوگا بلکہ اس کا دائرہ زیادہ وسیع بھی ہو سکتا ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور علاقائی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔
ان کے مطابق کسی بھی ممکنہ حملے کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے نتائج علاقائی سرحدوں سے باہر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، ایران امریکا مذاکرات اور آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ایران کے حالیہ بیانات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات کو ظاہر کرتے ہیں، جبکہ عالمی طاقتیں صورتحال کے سفارتی حل کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔







