واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے سے متعلق معاہدہ فوری طور پر طے پانے کا امکان نہیں ہے، کیونکہ ایرانی قیادت کی جانب سے حتمی منظوری میں مزید کئی روز لگ سکتے ہیں۔
عہدیدار کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں پیش رفت ضرور ہوئی ہے، تاہم حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مزید بات چیت کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی اور امریکی مذاکرات کار معاہدے کے بنیادی اور وسیع نکات پر پہلے ہی اتفاق کر چکے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی حکام کا یہ بھی ماننا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے مجوزہ معاہدے کے ابتدائی خدوخال کی منظوری دے دی ہے۔
تاہم کہا جا رہا ہے کہ اگرچہ دونوں فریق اہم نکات پر متفق ہیں، لیکن باضابطہ دستخط سے قبل حتمی شرائط اور تفصیلات کو طے کرنا باقی ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران سے متعلق معاہدہ ابھی مکمل طور پر طے نہیں پایا۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ سابق صدر باراک اوباما کے دور کے معاہدے سے مختلف ہوگا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ابھی تک کسی نے بھی اس معاہدے کی تفصیلات نہیں دیکھی ہیں، اس لیے بغیر معلومات کے تنقید کرنے والوں کی باتوں پر توجہ نہیں دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے حوالے سے مثبت پیش رفت سامنے آئے گی۔







