ایران پر آج حملہ کرنے والے تھے مگر سعودیہ، امارات اور قطر نے روک دیا،امریکی صدر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ خلیجی ممالک کے سربراہان کی درخواست پر ایران پر مجوزہ فوجی حملہ عارضی طور پر مؤخر کر دیا گیا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق صدر ٹرمپ نے بتایا کہ یہ حملہ آج کیا جانا تھا اور اس کے لیے تمام فوجی تیاریاں مکمل تھیں۔
انہوں نے کہا کہ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان نے یقین دہانی کرائی کہ ایران کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق ایک ایسا معاہدہ ممکن ہے جو امریکا، مشرقِ وسطیٰ اور دیگر متعلقہ ممالک کے لیے قابلِ قبول ہو، جس کی بنیادی شرط یہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی وزیر دفاع اور دیگر عسکری حکام کو ایران پر فی الحال حملہ روکنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے، تاہم اگر کوئی قابلِ قبول معاہدہ نہ ہوا تو امریکی فوج کسی بھی وقت کارروائی کر سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی فوج نے ایران کے خلاف محدود اور بڑے پیمانے پر کارروائیوں کے مختلف آپشنز پہلے ہی تیار کر رکھے تھے، جبکہ بحریہ اور فضائیہ کو خلیج میں ہائی الرٹ پر رکھا گیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خلیجی ممالک کسی بڑے جنگی تصادم سے بچنا چاہتے ہیں کیونکہ ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ خطے کی معیشت اور عالمی تیل تجارت کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں