ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان میں مبینہ طور پر تھیسز اور دیگر تعلیمی معاملات کے نام پر طالبات سے غیر قانونی رقوم وصول کیے جانے کے معاملے پر روزنامہ قوم کی خبر بالآخر رنگ لے آئی جس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ حرکت میں آ گئی۔ ذرائع کے مطابق تین روز قبل روزنامہ قوم میں خواتین یونیورسٹی ملتان کے شعبہ ایجوکیشن کی ٹی ٹی ایس اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر فریحہ سہیل کے حوالے سے شائع ہونے والی تفصیلی خبر، بینک ٹرانزیکشنز اور مبینہ شواہد سامنے آنے کے بعد وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ایک اہم اور سخت نوعیت کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ یونیورسٹی ترجمان کی جانب سے جاری کیے گئے IMPORTANT ALERT میں واضح کیا گیا ہے کہ ویمن یونیورسٹی ملتان میں تھیسز، وائیوا، ڈگری، سرٹیفکیٹس، فارم پراسیسنگ یا کسی بھی تعلیمی سروس کے لیے یونیورسٹی کے منظور شدہ فیس سٹرکچر کے علاوہ کوئی اضافی یا غیر سرکاری رقم وصول نہیں کی جاتی۔ نوٹیفکیشن میں طلبہ اور والدین کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی غیر مجاز شخص، ملازم یا ایجنٹ کو کسی بھی قسم کی رقم ادا نہ کریںبصورت دیگر ایسی ادائیگی کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ فرد پر عائد ہوگی۔ ترجمان کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے شفافیت، طلبہ کے تحفظ اور غیر قانونی مالی سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائی کے عزم کا اعادہ بھی کیا ہے جبکہ کسی بھی شکایت یا معلومات کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ شعبہ یا یونیورسٹی انتظامیہ سے رابطہ کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ روزنامہ قوم میں شائع ہونے والی خبر میں انکشاف کیا گیا تھا کہ خواتین یونیورسٹی ملتان کے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں تعینات ٹی ٹی ایس اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر فریحہ سہیل مبینہ طور پر ایم فل اور پی ایچ ڈی طالبات سے تھیسز کے نام پر فی طالبہ 25 ہزار روپے وصول کر رہی ہیں۔ خبر منظر عام پر آنے کے بعد متعدد طالبات اور ان کے والدین نے روزنامہ قوم سے رابطہ کرتے ہوئے مبینہ بینک ٹرانزیکشنز، رسیدات اور دیگر شواہد بھی فراہم کیے تھے جس کے بعد معاملہ نہ صرف یونیورسٹی بلکہ تعلیمی حلقوں میں بھی شدید بحث کا موضوع بن گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق خبر شائع ہونے کے بعد مختلف جامعات اور ڈیپارٹمنٹس میں ہنگامی اجلاس طلب کیے گئےجہاں چیئرپرسنز اور اساتذہ کو واضح ہدایات جاری کی گئیں کہ کسی بھی طالب علم سے تھیسز، پروپوزل، ریسرچ، مہمان نوازی، کھانے پینے یا دیگر اخراجات کے نام پر رقم وصول کرنا فوری طور پر بند کیا جائے کیونکہ یہ نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ تاہم ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ابتدائی طور پر متعلقہ شعبہ میں ہونے والی میٹنگ میں معاملے کو صرف زبانی تنبیہ تک محدود رکھا گیا تھا۔ ایک طالبہ کے والدین نے الزام عائد کیا کہ چیئرپرسن نے مبینہ طور پر متعلقہ ٹیچر کو صرف یہ کہہ کر معاملہ ختم کرنے کی کوشش کی کہ’’اس قسم کی سرگرمیوں سے گریز کریں، اس سے بدنامی ہو سکتی ہے۔‘‘ مزید حیران کن بات یہ سامنے آئی کہ مبینہ طور پر میٹنگ کے بعد بھی ایک ایم فل طالبہ سے مزید 25 ہزار روپے وصول کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں جن کے متعلق بینک ٹرانزیکشن کے شواہد بھی منظر عام پر آنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ تعلیمی ماہرین نے اس صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایسے معاملات پر فوری اور شفاف کارروائی نہ کی گئی تو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں طلبہ کا اعتماد شدید متاثر ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب طالبات اور ان کے والدین نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی کے حالیہ اقدام کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ جاری کردہ نوٹیفکیشن کو صرف رسمی کارروائی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ تمام شکایات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت تادیبی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے تاکہ مستقبل میں کسی طالب علم کو اس قسم کی مبینہ مالی استحصال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ متعدد طالبات اور والدین نے مطالبہ کیا کہ ٹیچرز سے ان کی حلال کی کمائی واپس بھی دلوائی جائے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر فریحہ سہیل کا مؤقف تھا کہ انہوں نے جرنل فیس چارج کی تھی اور ان کے مطابق اس میں کوئی غیر قانونی بات نہیں جبکہ وائس چانسلر آفس کے ذرائع کے مطابق متعدد طالبات نے براہ راست وائس چانسلر سے ملاقات کر کے بھی شکایات درج کروائی ہیںجس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے معاملے پر سخت پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔







