ملتان (قوم مددگار سیل) فوری رسپانس کے لیے قائم 15 پولیس کنٹرول کے عملے نے گیلانی ٹاؤن ملتان کی بیوہ کی شکایت پر کسی بھی قسم کی کارروائی سے انکار کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ ابھی تو آپ کو صرف دھمکیاں ہی مل رہی ہیں جب کوئی ایکشن آپ کے خلاف ہوگا تو ہم کاروائی کرنے کے مجاز ہیں۔ اس سے پہلے آپ ہمیں فون پر تنگ نہ کریں۔ سیلاب میں ڈوب کر جاں بحق ہونے والے گیلانی ٹاؤن موضع پیر والا جو کہ تھانہ قطب پور کی حدود میں واقع ہے، کی رہائشی بیوہ کو 15 سے ملنے والے جواب نے پولیس کی فوری مدد کے دعوئوں کا پول کھول دیا۔ روزنامہ قوم کے دفتر میں گزشتہ روز مذکورہ بیوہ اقرا کے قریبی رشتہ داروں نے آ کر بتایا کہ سال 2025 کے سیلاب میں ڈوب کر جاں بحق ہونے والے ملتان کے 30 سالہ عامر نامی نوجوان کی بیوہ اور دو بچیوں پر اس کے سسرال نے زندگی اجیرن کر دی ہے اور اس کے چار مرلے کے گھر پر قبضہ کر لیا ہے۔ ایف اے پاس بیوہ اقرا کو تشدد کا نشانہ بنا کر کہا جا رہا ہے کہ وہ یہ گھر چھوڑ دے اور اپنے بچوں کو بھی چھوڑ کر کہیں بھی گھر سے نکل کر چلی جائے۔ عامر نے دن رات محنت کر کے چار مرلے کا یہ گھر بنوایا تھا جس کی فرد ملکیت عامر ہی کے نام پر ہے مگر عامر کے انتقال کے بعد ریسکیو 1122 میں ملازمت کرنے والے محسن رضا نے اپنی بیوہ بھابھی پر زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ محسن اور اس کے بھائی کوثر عباس نے اپنے سگے بھائی عامر کے ڈوب کر ہلاک ہونے کے بعد اپنی بھابی سے یہ کہہ کر مختلف اسٹامپ پیپرز پر دستخط کروا لیے کہ بھائی کی موت کے عوض 25 لاکھ روپیہ امداد کی مد میں ملنا ہے اس لئے کاغذات پر سائن کر دیں۔ عامر کی بیوہ اقرا نے چھپ کر ٹیلی فون پر روزنامہ قوم سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا ایک بچہ چار سال کا جب کہ دوسرا تین سال کا ہے اور اس کا کوئی سہارا نہیں والد فوت ہو چکا ہے اور اس کی چھ بہنیں ہیں جن کے خاوند مزدوری کرتے ہیں اس کے پاس اور کوئی اسرا نہیں اور یہ میرے سسرال والے میرے خاوند کی موت کے بعد مجھے بے آسرا کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور مجھ سے چھت چھین رہے ہیں۔







