ساہیوال اور سمندری میں مقابلے، 2بچوں سے زیادتی کے بعد قتل کرنیوالے 5 ملزم پار

ساہیوال، سمندری (نمائندہ خصوصی،نامہ نگار) ساہیوال اورسمندری میں پولیس مقابلے ،2بچوں کوزیادتی کے بعد قتل کرنیوالے5ملزم پار ہو گئے۔تفصیل کے مطابق ساہیوال میںشرقی بائی پاس کے نزدیک مبینہ پولیس مقابلہ تین ملزمان ہلاک دو فرار ہو گئے مقابلے میں ایک پولیس کانسٹیبل بلال بھی زخمی ہو گیا ہلاک ہونے والے ملزموں نے آٹھویں جماعت کے طالب علم حسن قادر کو اغوا کر کے اجتماعی زیادتی اور اسے قتل کر دیا تھا پولیس نے تینوں ملزمان کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر دی ہیں جبکہ ملزمان کے خلاف اغوا اور قتل کا مقدمہ درج ہے تفصیلات کے مطابق آٹھویں جماعت کا طالب علم حسن صبح کے وقت اپنی بہن کو سکول چھوڑنے کے لیے سر کی بازار گورنمنٹ گرلز ہائی سکول میں ایا تو اسے ایک ملرم شعیب جو کہ مقتول کے گاؤں 94 نائن ایل میں مزدوری کرتا تھا وہ مقتول کو جانتا تھا اس نے اسے ٹریپ کیا اور کہا کہ چلو کنان پارک میں ٹک ٹاک بناتے ہیں مقتول ٹک ٹاک بنانے کا شوقین تھا وہ اس کے ساتھ چلا گیا وہاں پر ملزم کے دو ساتھی عدنان اور شوکت بھی اگئے اور وہ اسے ہڑپہ میں ٹک ٹاک بنانے کے لیے اپنے ہمراہ لے گئے وہاں جا کر جب مقتول کو پتہ چلا کہ یہ اسے زیادتی کا نشانہ بنانا چاہتے ہیں تو اس نے مزاحمت کی اور وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی تو ملزمان نے اسے برہنہ کر دیا اس کی شلوار اور ازار بن کے ساتھ اس کے ہاتھ پاؤں اور منہ میں کپڑا ٹھوس دیا اور اسے نیچے گرا کر اس کے ساتھ کئی مرتبہ باری باری زیادتی کرتے رہے۔ مقتول ایک ملزم شعیب کو جانتا تھا کیونکہ وہ اس کے گاؤں میں مزدوری کرتا تھا اس لیے ملزموں نے گرفتاری سے بچنے کے لیے طالب علم حسن کی تیز دھار چھری کے ساتھ گردن کاٹ کر علیحدہ کر دی اور لاش کو چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ ملزمان فیصل آباد اور ساہیوال کے مختلف مقامات پر چلے گئے جبکہ ملزمان کا تعلق ہڑپہ کے گاؤں دو 10 ایل سے تھا اور وہ تینوں آپس میں دوست تھے ادھر پولیس اس اندھے قتل کا سراغ لگانے کے لیے مصروف تھی جس نے ایک ہفتے بعد لاش کو برآمد کیا ۔لاش کو گدھ جانوروں نے مکمل طور پر کھا لیا تھا صرف مقتول کی باقیات بچی ہوئی تھی۔ مقتول کی شناخت اس کے کپڑوں اس کے جوتوں اور اس کے پاس جو ایک بیگ تھا اس سے ہوئی بعد میں ملزمان نے اس واقعے کی تصدیق کی اور بتایا کہ یہ لاش طالب علم حسن کی ہے۔ پولیس نے ملزموں کو فیصل آباد اور ساہیوال سے رات دن محنت کر کے گرفتار کیا ۔ملزموں نے بتایا تھا کہ وہ کمسن ان بچوں کو ٹریپ کرتے تھے جن سے ان کی آشنائی تھی وہ بچوں کے ساتھ متعدد ریپ کی واردات کر چکے ہیں۔ انہوں نے بچوں کے ساتھ ریپ کرنے کے لیے اپنا گینگ بنایا ہوا تھا اور بچوں کو ویران مقامات، پارکوں سے اٹھا کر لے جاتے تھے۔ ڈی پی او ساہیوال محمد عثمان ٹیپو نے اس اندھے قتل کا سراغ لگانے پر ایس ایچ او شمیم رحمان کو مبارکباد دی اور ان کی کارکردگی پر انہیں خراج تحسین پیش کیا انہوں نے اس مقدمے کو ٹریس کرنے والی پارٹی کو انعام دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔سمندری سےنامہ نگار کےمطابق سات سالہ بچے سے زیادتی کے بعد قتل کرنے کے مقدمہ کے 2 ملزمان پولیس مقابلہ میں ہلاک ہو گئے پولیس تھانہ صدر نے ملزمان کی گرفتاری کیلئے447گ ب میں چھاپہ مارا ملزمان نے پولیس پارٹی پراندھا دھند فائرنگ کردی پولیس نے بھی حفاظت خوداختیاری میں جوابی فائرنگ کی اس دوران ملزمان کی فائرنگ سے ان کے دو ساتھی نعمان اورشاہد زخمی ہوئے جبکہ ان کے دیگر ساتھی فرار ہوگئے پولیس نے زخمی ملزمان کو سول ہسپتال منتقل کیا مگروہ ہسپتال پہنچ کر ہلاک ہوگئے پولیس نے ملزمان کے قبضہ سے اسلحہ بھی برآمد کرلیا کچھ روز قبل چک نمبر447گ ب کے محنت کش کے سات سالہ بیٹے علی احمد سے بدفعلی کے بعد اسے قتل کردیاگیا ۔مقدمہ کے ملزمان کی گرفتاری کیلئے جانے والی پولیس پارٹی سے مقابلہ کے دوران دونوں مرکزی ملزمان مارے گئے اطلاع پر ڈی ایس پی آفتاب صابر موقعہ پر پہنچ گئے پولیس کی جانب سے فرار ملزمان کی گرفتاری کیلئے آپریشن جاری ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں