چینی صدر نے واضح طور پر کہا ہے ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرسکتا، امریکی صدر

واشنگٹن: امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ چینی صدر Xi Jinping نے ان سے واضح طور پر کہا ہے کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ایئر فورس ون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ چین نے امریکا سے 200 بوئنگ طیارے خریدنے پر اتفاق کیا ہے، اور یہ تعداد مستقبل میں 750 تک بھی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین اربوں ڈالر کی سویابین بھی خرید رہا ہے جس سے امریکی کسانوں کو بڑا فائدہ ہوگا۔
ٹرمپ کے مطابق وہ ایران کے جوہری پروگرام کو 20 سال کے لیے معطل کرنے کے معاملے پر بھی غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایرانی تیل خریدنے والی چینی کمپنیوں پر پابندیاں ختم کرنے سے متعلق فیصلہ بھی زیر غور رکھیں گے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ چین اور امریکا ایران کے معاملے پر ایک ہی مؤقف رکھتے ہیں اور دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چینی صدر آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے حق میں ہیں کیونکہ چین کی بڑی تجارتی سرگرمیوں کا انحصار اسی راستے پر ہے۔
تائیوان کے حوالے سے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ اس معاملے پر چین کو کوئی نئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی اور امریکی پالیسی میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
انہوں نے ایک رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے میزائل نظام سے متعلق دعوے درست نہیں اور بعض میڈیا رپورٹس “سنگین غلط معلومات” پر مبنی ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق ایران کی فوجی صلاحیتیں کمزور ہو چکی ہیں اور امریکا کے پاس یہ صلاحیت ہے کہ وہ کسی بھی خطرے کا فوری جواب دے سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر ناکام بنایا جا چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے کچھ پہلوؤں پر اختلاف ہے اور بعض تجاویز انہیں قابل قبول نہیں۔
برطانوی وزیراعظم Keir Starmer سے متعلق گفتگو میں انہوں نے کہا کہ وہ ایک اچھے رہنما ہیں لیکن انہیں توانائی اور امیگریشن پالیسی میں چیلنجز کا سامنا ہے۔
اس موقع پر انہوں نے پاکستانی قیادت کی بھی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل قابلِ احترام شخصیات ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں