تازہ ترین

جھنگ سیکشن ریلوے اراضی میں بے ضابطگیاں، انسپکٹر آف ورکس کے زیر سایہ قبضہ مافیا سرگرم

بہاولپور( ڈسٹرکٹ رپورٹر)ملتان ریلوے ڈویژن کے جھنگ سیکشن میں تعینات انسپکٹر آف ورکس عثمان غنی کے زیرِ سایہ چونڈا سٹیشن، شاہ جیونہ، منڈی سلہ والی اور شاہین آباد سٹیشنوں کی ریلوے اراضی پر بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں اور مبینہ غیر قانونی قبضوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق متعدد لیز ہولڈرز کو ریلوے ریکارڈ میں صرف چار مرلہ پلاٹ الاٹ کیے گئے، تاہم عملی طور پر ان کے قبضے چار مرلہ سے کہیں زیادہ رقبے پر قائم ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ انسپکٹر آف ورکس عثمان غنی کا کلرک عرصۂ دراز سے جنگ سیکشن میں تعینات ہے اور ریلوے اراضی سے متعلق تمام معاملات انہی کی نگرانی میں چل رہے ہیں۔ ریلوے لیز رجسٹر، ریونیو ریکارڈ اور موقع کی صورتحال میں واضح تضادات پائے گئے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق لیز پر دی گئی اراضی اور بقایا سرکاری رقبے کے اعداد و شمار میں فرق موجود ہے، جس سے سرکاری خزانے کو لاکھوں روپے نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل سابق ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ (DS) حنیف گل کی جانب سے دو انسپکٹر آف ورکس ریلوے افسران کے خلاف اختیارات سے تجاوز، سرکاری رقم خردبرد کرنے اور نیلامی و ایکشن میں من پسند افراد کو نوازنے کے الزامات پر شوکاز نوٹس اور چارج شیٹس جاری کی گئی تھیں، جن کے نتیجے میں مذکورہ افسران کو جبری ریٹائرمنٹ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ذرائع کے مطابق جھنگ سیکشن میں حالیہ سیلابی تباہ کاریوں کے بعد ریلوے تنصیبات کی بحالی کے لیے ایک باقاعدہ ٹینڈر جاری کیا گیا تھا، جس کا ٹھیکہ الشریف کنسٹرکشن کمپنی کو دیا گیا۔ تاہم الزام ہے کہ انسپکٹر آف ورکس عثمان غنی اور ڈی ای این ون ریحان صابر کی مبینہ ملی بھگت سے غیر معیاری کام کروایا گیا۔ حیران کن طور پر متعلقہ ریکارڈ تاحال تحقیقاتی اداروں کو فراہم نہیں کیا جا سکا۔ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ معاملات کے حوالے سے ایک انکوائری ایف آئی اے ملتان زون میں زیرِ سماعت ہے، جبکہ جھنگ سیکشن کی ریلوے اراضی پر متعدد مقامات پر مبینہ غیر قانونی قبضے بھی قائم ہیں۔قانونی ماہرین کے مطابق اگر سرکاری اراضی کے ریکارڈ میں رد و بدل، اختیارات کا ناجائز استعمال یا قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے شواہد ثابت ہو جائیں تو پاکستان پینل کوڈ 1860 کی دفعات 409، 420، 468 اور 471 کے تحت کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے، جبکہ ایف ائی اے اور پریوینشن آف کرپشن ایکٹ کے تحت بھی تحقیقات ممکن ہیں۔شہری حلقوں نے چیف ایگزیکٹو آفیسر ریلوے، ڈی جی ویجیلنس ریلوے، اسپیشل برانچ اور متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ جنگ سیکشن کی ریلوے اراضی، لیز ریکارڈ، ٹینڈر فائلوں اور موقع کی صورتحال کا فوری فرانزک آڈٹ کروا کر ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے، تاکہ قومی ادارے کی اراضی کو قبضہ مافیا اور کرپشن سے بچایا جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں