لاہور: سانحہ 9 مئی 2023 کو تین سال مکمل ہونے پر پنجاب پولیس نے مقدمات، گرفتار افراد اور عدالتی کارروائیوں سے متعلق تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے۔
پولیس رپورٹ کے مطابق صوبہ پنجاب بھر میں سانحہ 9 مئی سے متعلق مجموعی طور پر 319 مقدمات درج کیے گئے جن میں 35 ہزار 962 افراد کو نامزد کیا گیا جبکہ 11 ہزار 367 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ درج 319 مقدمات میں سے 307 کے چالان عدالتوں میں جمع کرائے جا چکے ہیں جبکہ 12 مقدمات کے چالان تاحال زیر التواء ہیں۔ اس کے علاوہ 24 ہزار 595 تحریک انصاف کارکنوں کو نامعلوم افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور پارٹی کی مرکزی قیادت مختلف مقدمات میں نامزد ہے جبکہ اب تک 22 کیسز کے فیصلے بھی سامنے آ چکے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ شاہ محمود قریشی بعض مقدمات میں بری ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ضلع راولپنڈی میں سانحہ 9 مئی کے 12 اہم مقدمات درج ہیں جو ابھی تک زیر سماعت ہیں۔ جی ایچ کیو گیٹ ون اور گیٹ فور سے متعلق کیسز بھی تاحال التواء کا شکار ہیں۔ جی ایچ کیو گیٹ ون کیس میں 119 ملزمان شامل ہیں جن میں سے 44 کے بیانات قلمبند کیے جا چکے ہیں جبکہ جرح کا عمل ابھی شروع نہیں ہو سکا۔
پولیس رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ راولپنڈی کے 11 مقدمات میں ابھی تک فرد جرم بھی عائد نہیں کی جا سکی۔ تمام کیسز کی سماعت ویڈیو لنک اور جیل ٹرائل نوٹیفکیشن کے تحت جاری ہے۔
ملٹری کورٹس کی جانب سے حسان نیازی سمیت 32 ملزمان کو 10،10 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے جبکہ مجموعی طور پر 10 مقدمات کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہوا۔
اسی طرح ڈاکٹر یاسمین راشد، سرفراز چیمہ، اعجاز چوہدری، محمود الرشید، علامہ حامد رضا، شیخ وقاص، زرتاج گل اور عمر ایوب کو بھی مختلف کیسز میں 10،10 سال قید کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔
یاد رہے کہ چیف جسٹس پاکستان نے 9 مئی مقدمات کے فیصلے چار ماہ کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت جاری کی تھی۔







