لٹل سکالرز سکول سیل، محکمہ تعلیم، بلڈنگ، کارپوریشن، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام محفوظ

ڈیرہ غازی خان (ڈسڑکٹ رپورٹر،خبرنگار ) لٹل سکالرز سکول کی تمام برانچزکو سیل کردیاگیا، محکمہ تعلیم، بلڈنگ، کارپوریشن، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام محفوظ ہیں۔لٹل سکالرز سکول کا المناک سانحہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ پورے سرکاری نظام، بلڈنگ مافیا، انتظامی نااہلی اور انسانی جانوں سے کھیلنے والی مجرمانہ غفلت کی خوفناک مثال بن چکا ہے۔ چار معصوم بچوں کی جانیں چلی گئیں، کئی بچے شدید زخمی ہیں، والدین غم اور صدمے سے نڈھال ہیں مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اس اندوہناک سانحے کے اصل ذمہ دار آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں جبکہ بے گناہ افراد کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔ عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے کہ اتنے بڑے سانحے کے باوجود محکمہ بلڈنگ، میونسپل کارپوریشن، ضلعی انتظامیہ، ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن اتھارٹی اور متعلقہ حکام کے خلاف اب تک کوئی مؤثر کارروائی سامنے نہیں آئی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اصل ایف آئی آر تو ان افسروں اور اداروں کے خلاف درج ہونی چاہیے تھی جنہوں نے غیر محفوظ، کمزور اور خطرناک عمارت کو برسوں تک چلنے دیا مگر حیران کن طور پر مقدمہ بلڈنگ مالک، مزدوروں اور ٹھیکیداروں پر ڈال کر اصل مجرموں کو بچانے کی کوشش کی گئی۔ شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر عمارت غیر قانونی، ناقص اور غیر محفوظ تھی تو پھر میونسپل کارپوریشن کہاں تھی؟ بلڈنگ انسپکٹرز، پلاننگ آفیسرز، ریگولیشن برانچ اور متعلقہ افسران نے آنکھیں کیوں بند رکھیں؟ کیا ان اداروں کا کام صرف فائلوں پر دستخط کرنا اور حادثے کے بعد دکھاوے کی کارروائیاں کرنا رہ گیا ہے؟ عوام کا کہنا ہے کہ یہ سانحہ کسی ایک فرد کی غلطی نہیں بلکہ پورے کرپٹ نظام کی ناکامی ہے جس نے رشوت، غفلت اور ملی بھگت کے ذریعے بچوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالا۔اطلاعات کے مطابق اسکول کی عمارت ایک ایسی جگہ پر قائم تھی جو ماضی میں تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہوتی رہی۔ مقامی افراد کے مطابق عمارت کمزور بنیادوں پر کھڑی تھی اور بعد ازاں اس میں غیر قانونی توسیع کرکے مزید منزلیں تعمیر کی گئیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت تکنیکی معائنہ، حفاظتی آڈٹ اور قانونی کارروائی کی جاتی تو آج کئی معصوم جانیں محفوظ ہوتیں۔ شدید تنقید کا ایک بڑا پہلو یہ بھی ہے کہ درج ہونے والی ایف آئی آر میں اصل متاثرہ خاندانوں کو مدعی نہیں بنایا گیا۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ جن والدین کے بچے زخمی یا جاں بحق ہوئے، اصل مدعی وہ ہونے چاہیے تھے، کیونکہ انہی خاندانوں نے سب سے بڑا نقصان اٹھایا ہے۔ لیکن افسوس کہ انتظامیہ نے جلد بازی میں ایسی ایف آئی آر درج کی جس سے اصل ذمہ داروں کو بچانے اور معاملے کا رخ موڑنے کی کوشش صاف دکھائی دیتی ہے۔ عوامی و سماجی حلقوں نے اس بات پر بھی شدید حیرت اور غصے کا اظہار کیا ہے کہ اتنے بڑے سانحے کے باوجود حکومت پنجاب کی جانب سے اب تک کسی بڑے افسر کو معطل نہیں کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر،چیف آفیسر کارپوریشن، بلڈنگ انسپکٹر، پلاننگ آفیسر، سی او ایجوکیشن اور نہ ہی کسی ریگولیشن افسر کے خلاف کوئی بڑی کارروائی سامنے آئی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر چار بچوں کی جانیں جانے کے باوجود بھی افسران اپنی کرسیوں پر محفوظ بیٹھے رہیں گے تو پھر عوام انصاف کی امید کس سے رکھیں۔ دوسری جانب محکمہ تعلیم نے کارروائی کرتے ہوئے لٹل سکالرز سکول کی تمام برانچز سیل کر دی ہیں اور ایف آئی آر بھی درج ہو چکی ہےمگر شہریوں کے مطابق صرف سکول سیل کرنا کافی نہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ اصل انصاف تب ہوگا جب ان تمام افسران، اداروں اور افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا جنہوں نے اپنی غفلت، نااہلی یا مبینہ کرپشن کے ذریعے اس خطرناک عمارت کو چلنے دیا۔ سماجی رہنماؤں اور شہری تنظیموں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سانحے کی شفاف جوڈیشل انکوائری کرائی جائے، تمام ذمہ دار افسران کو فوری معطل کیا جائے اور ان کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں۔ ڈیرہ غازی خان سے خبرنگار کےمطابق ایف آئی آر میں اصل ذمہ داران کو بچانے اور واقعہ کا رخ موڑنے کی کوشش محسوس ہوتی ہے۔ اس سانحہ کے اصل ملزمان ذمہ داران کو مدعی بنایا گیا، غفلت، نااہلی اور مبینہ ملی بھگت کو نظر انداز کر کے معاملہ کا رخ موڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔شہر میں غیر قانونی کالونیوں، بغیر نقشہ منظوری تعمیرات اور خطرناک عمارتوں کا قیام متعلقہ اداروں، میونسپل کارپوریشن اور ٹی ایم اے افسران کی خاموشی یا مبینہ ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیںجبکہ قانون پر عمل کرنے والے شہریوں کو مہینوں دفاتر کے چکر لگوائے جاتے ہیں۔ شہریوں نےحکومتِ وقت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیاہے کہ اس سانحہ کی شفاف تحقیقات کر کے تمام ذمہ دار افسران اور عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ ایسے المناک واقعات سے بچا جا سکے۔سکول کی عمارت کا معیار کیا ہونا چاہیے؟کیا ہر عمارت میں سکول بنایا جا سکتا ہے؟صرف چند کمروں والی عمارت، پلازہ یا گھر کو سکول قرار دینا قانونی اور اخلاقی طور پر درست نہیں۔ایک معیاری سکول کی عمارت میںدرج ذیل چیزیں لازمی ہونی چاہئیں:1۔ مضبوط اور محفوظ اسٹرکچرعمارت کی بنیادیں، چھتیں، ستون اور دیواریں مکمل طور پر مضبوط ہوں۔ کسی بھی قسم کی دراڑ، جھکی ہوئی چھت یا کمزور دیوار خطرناک سمجھتے ہے 2۔ بلڈنگ فٹنس سرٹیفکیٹہر اسکول کے پاس منظور شدہ انجینئر یا متعلقہ ادارے کا فٹنس سرٹیفکیٹ ہونا چاہیے جو ثابت کرے کہ عمارت بچوں کے لیے محفوظ ہے۔3۔ ایمرجنسی راستےاسکول میں آگ، زلزلے یا کسی بھی حادثے کی صورت میں فوری انخلا کے لیے ایمرجنسی ایگزٹ ہونا لازمی ہے۔4۔ فائر سیفٹی سسٹمفائر ایکسٹینگشر، الارم سسٹم اور حفاظتی تربیت ضروری ہونی چاہیے تاکہ آگ لگنے کی صورت میں بچوں کو بچایا جا سکے۔5۔ کشادہ کلاس رومزکمرے اتنے چھوٹے نہ ہوں کہ بچے گھٹن محسوس کریں۔ مناسب ہوا، روشنی اور وینٹیلیشن ضروری ہے۔6۔ تعمیراتی کام کے دوران پابندیاگر عمارت میں کنسٹرکشن یا مرمت کا کام جاری ہو تو وہاں بچوں کی کلاسیں لینا انتہائی خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ عمل سمجھا جاتا ہے۔7۔ کھیل اور کھلی جگہبچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے کھلی جگہ، کھیل کا میدان یا کم از کم محفوظ اوپن ایریا ہونا ضروری ہے۔8۔ بجلی اور پانی کا محفوظ نظامکھلی تاریں، خراب سوئچ، گندا پانی یا غیر محفوظ واش روم بچوں کی صحت اور جان دونوں کے لیے خطرہ ہوتے ہیں۔9۔ زلزلہ اور موسمی حالات کے مطابق ڈیزائناسکول کی عمارت کو مقامی موسم اور ممکنہ قدرتی آفات کو مدنظر رکھ کر تعمیر کیا جانا چاہیے۔10۔ حکومتی منظور ی کسی بھی اسکول کو رجسٹریشن اور باقاعدہ اجازت کے بغیر نہیں چلنا چاہیے۔ متعلقہ محکمہ تعلیم اور بلڈنگ اتھارٹی کی منظوری لازمی ہونی چاہیے۔پاکستان میں اصل مسئلہ کیا ہے؟بدقسمتی سے بہت سے علاقوں میں:- کرائے کی پرانی عمارتوں میں اسکول کھول دیے جاتے ہیں،- بلڈنگ فٹنس چیک نہیں ہوتا،- زیادہ بچوں کو چھوٹے کمروں میں بٹھایا جاتا ہے،- اور منافع کی خاطر حفاظتی اصول نظر انداز کیے جاتے ہیں۔یہی لاپرواہی بعد میں بڑے سانحات کا سبب بنتی ہے۔قانونی طور پر ذمہ داری کس کی ہے؟اگر کسی غیر محفوظ عمارت میں اسکول چلایا جا رہا ہو تو اس کی ذمہ داری:- اسکول مالک،- پرنسپل،- بلڈنگ مالک،- اور متعلقہ نگرانی کرنے والے اداروں پر عائد ہوتی ہے۔والدین کو کیا کرنا چاہیے؟والدین کو چاہیے کہ سکول کی عمارت کا جائزہ لیں۔ایمرجنسی راستے دیکھیں۔فٹنس سرٹیفکیٹ کے بارے میں سوال کریں اور اگر عمارت غیر محفوظ لگے تو فوری شکایت درج کروائیں۔ حکومت، انتظامیہ، والدین اور اسکول مالکان سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ تعلیمی اداروں کو محفوظ بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے المناک سانحات دوبارہ نہ ہوں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں