سکول سانحہ ؛ڈیرہ میں سوگ و گشیدگی ،ایک بچی کی تدفین سے انکار ،ایم پی اے کے مذاکرات ،تفصیلات جانیے ڈیرہ غازی خان سے ڈسڑکٹ رپورٹر کی رپورٹ میں، سکول سانحہ پرڈیرہ میں سوگ وکشیدگی جاری ہے، ایک بچی کے ورثانے تدفین سے انکارکردیا ، ایم پی اے کے مذاکرات پرتدفین کی۔نمازجنازہ میں سیاسی و عوامی شخصیات نےشرکت کی، ورثا نےسخت احتساب کا مطالبہ کردیا۔ اس ہولناک حادثے میں کم از کم چار معصوم جانیں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں عبداللہ ولد رب نواز، معصومہ فاطمہ، غنیہ اور دعا فاطمہ شامل ہیں۔ یہ وہ بچے تھے جو صبح اپنے گھروں سے اس امید کے ساتھ نکلے تھے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے اپنے والدین کا سہارا بنیں گے مگر تقدیر نے ان کے لیے واپسی کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا۔ ان کی اچانک موت نے ہر گھر کو سوگوار اور ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا ہے۔ دعا فاطمہ کی نماز جنازہ مرکزی عیدگاہ میں ادا کی گئی جہاں فضا مکمل طور پر سوگوار تھی۔ ہر طرف خاموشی، ہر چہرہ غم سے بوجھل اور ہر آنکھ اشکبار تھی۔ نماز جنازہ میں شہریوں کی بڑی تعداد کے ساتھ ساتھ سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر رکن پنجاب اسمبلی حنیف پتافی، ایم این اے سردار محمود قادر خان لغاری، سید علیم شاہ، ضلعی انتظامیہ کے افسران اور دیگر معزز شخصیات موجود تھیں۔ علاقے میں اس سانحے کے بعد شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ شہریوں نے اسکول انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔دوسری جانب لٹل سکالر سکول کی مبینہ غیر قانونی اور ناقص تعمیر کے باعث پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے، ایک معصوم بچی کی شہادت پر اس کے ورثاء نے شدید احتجاج کرتے ہوئے تدفین سے انکار کر دیا ۔ متاثرہ خاندان اور مقامی شہریوں کی جانب سے واقعے کی غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔دریں اثناورثا سے مذاکرات پر ایم پی اے اسامہ عبدالکریم نے وعدہ کیا ہے وہ سکول پرنسپل کے خلاف مقدمہ درج کراینگے۔ورثاء اور مقامی ذرائع کے مطابق سکول کی عمارت مبینہ طور پر ناقص میٹریل سے تعمیر کی گئی تھی اور اس کی حالت طویل عرصے سے تشویشناک بتائی جا رہی تھی۔ اہل علاقہ کا مؤقف ہے کہ اگر متعلقہ اداروں کی جانب سے بروقت معائنہ اور کارروائی کی جاتی تو یہ افسوسناک حادثہ پیش نہ آتا۔متاثرہ خاندان نے الزام عائد کیا ہے کہ کارپوریشن کے بعض افسران اور اہلکاروں نے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے بجائے مبینہ طور پر خاموشی اختیار کی۔ ورثاء کے مطابق سی او کارپوریشن، انسپکٹر عرفان، جمیل شاہ، اشرف سپل، شاہد رمضان اور منصور سمیت بعض دیگر اہلکاروں کی مبینہ غفلت اس واقعے کا سبب بنی۔ ورثاء نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جب تک ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا آغاز نہیں کیا جاتا، وہ بچی کی تدفین نہیں کریں گے۔ اس اعلان کے بعد علاقے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور شہری بڑی تعداد میں متاثرہ خاندان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے جمع ہو گئے۔دوسری جانب مقامی انتظامیہ کی جانب سے واقعے کی ابتدائی رپورٹ طلب کر لی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سکول کی عمارت کی تعمیر، اجازت ناموں اور حفاظتی معیار کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر کسی قسم کی غفلت یا خلاف ورزی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔







