ملتان (خصوصی رپورٹر) پاکستان بزنس فورم نے سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی سی آر آئی) ملتان کی تقریباً 15 ایکڑ اراضی پر ملتان جمخانہ قائم کرنے کی تجویز پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملکی زرعی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دے دیا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان بزنس فورم کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو ایک باقاعدہ مراسلہ ارسال کیا گیا ہےجبکہ اس کی ایک کاپی سیکرٹری وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کو بھی بھجوائی گئی ہے۔پاکستان بزنس فورم کے صدر خواجہ محبوب الرحمان نے اپنے مراسلے میں موقف اختیار کیا ہے کہ مذکورہ 115 ایکڑ اراضی 1970 سے خصوصی طور پر کپاس کی تحقیق کے لیے الاٹ کی گئی تھی۔ جس میں سے اس وقت 100 ایکڑ اراضی باقی ہےجن میں 20 ایکڑ پر انفراسٹرکچر قائم ہے جبکہ 80 ایکڑ پر کپاس کے تحقیقی ٹرائلز اور تجربات جاری ہیں۔ مزید برآں 15 ایکڑ اراضی ماضی میں میپکو، واپڈا، این ایچ اے اور واسا مختلف منصوبوں کے لیے حاصل کر چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مالی مشکلات کے باوجود اس ادارے نے Cyto-547 اور CRIS-682 جیسی کپاس کی بہترین اقسام تیار کیںجن میں سے ایک قسم سندھ کے تقریباً 40 فیصد رقبے پر کاشت ہو رہی ہے جبکہ پنجاب میں Cyto-547 لاکھوں ایکڑ پر زیرِ کاشت رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی قیمتی تحقیقی زمین کو تفریحی مقاصد، خصوصاً جمخانہ کلب کے لیے استعمال کرنا پنجاب اور پاکستان کے طویل المدتی زرعی و معاشی مفادات کے خلاف ہے۔پاکستان بزنس فورم نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ ملتان کی جانب سے اراضی کی منتقلی کے حوالے سے ارسال کردہ سمری کو فوری طور پر مسترد اور منسوخ کیا جائے تاکہ کپاس کی تحقیق، زرعی اختراع اور قومی زرعی مفادات کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ترجمان سی سی آر آئی ملتان ساجد محمود نے پاکستان بزنس فورم کے اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کی تمام زمین دہائیوں کی محنت، سائنسی تحقیق اور زرعی تجربات کے لیے تیار کی گئی ہے، اس کا تحفظ کپاس کی فصل، کسانوں اور ملکی معیشت کے مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔







