ٹرمپ کا دعویٰ، ایران کے ساتھ جنگ بندی برقرار، مزید حملوں پر سخت ردعمل کی دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی تاحال قائم ہے، اگرچہ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور حملوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔
اپنے تازہ بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ امریکی افواج نے ایران کی جانب سے مبینہ حملوں کے جواب میں دفاعی نوعیت کی کارروائیاں کیں، جن میں ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق امریکی حملے مؤثر ثابت ہوئے اور ان کارروائیوں کے دوران ایران کے میزائل سسٹمز، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور دیگر اہم عسکری ڈھانچے کو نقصان پہنچایا گیا۔
انہوں نے ایران کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر تہران جلد کسی امن معاہدے کی جانب پیش رفت کرے تو خطے کو مزید کشیدگی اور خونریزی سے بچایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں استحکام چاہتا ہے، تاہم امریکی مفادات یا فوجیوں پر کسی بھی حملے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
امریکی فوجی حکام کے مطابق حالیہ کارروائیاں ان حملوں کے ردعمل میں کی گئیں جو مبینہ طور پر ایرانی فورسز کی جانب سے امریکی اہداف پر کیے گئے تھے۔
دوسری جانب ایران کی فوج کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے، تاہم فوری طور پر مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی برادری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی رسمی طور پر برقرار ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان اب بھی موجود ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نئی فوجی کارروائی سے مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں