امریکی جنگ بندی تجویز زیر غور، ایران کا فیصلہ ابھی باقی

تہران: ایران نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکا کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے بھیجی گئی نئی تجویز اس وقت زیرِ غور ہے، تاہم اس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی پیغام پاکستان کے ذریعے موصول ہوا، جس پر مختلف سطحوں پر جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فی الحال اس تجویز کی تفصیلات عوام کے سامنے نہیں لائی جا سکتیں کیونکہ معاملہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا اکثر ایسے مطالبات پیش کرتا ہے جو ایران کے نزدیک غیر معمولی اور ناقابلِ قبول ہوتے ہیں، اسی لیے اس تجویز کا جائزہ لینا بھی ایک پیچیدہ عمل ہے۔
ترجمان نے ان اطلاعات کو بھی رد کر دیا جن میں ایران کے جوہری پروگرام، خاص طور پر یورینیم افزودگی یا جوہری مواد سے متعلق مذاکرات کا ذکر کیا جا رہا تھا۔ ان کے مطابق اس حوالے سے گردش کرنے والی بیشتر خبریں قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں اور ان میں کوئی ٹھوس حقیقت نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت ایران کی اولین ترجیح جنگ کا مکمل خاتمہ ہے، جبکہ آئندہ کے فیصلے موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کے ذریعے پیغام رسانی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پس پردہ سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان موجود اختلافات کے باعث فوری پیشرفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں