ملتان (وقائع نگار)پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی قلت، ڈاکٹرز پابندیوں کے باعث بے بس، مریض نجی ہسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبورپنجاب بھر کے سرکاری ہسپتالوں، خصوصاً نشتر ہسپتال ملتان، میں ادویات کی شدید قلت نے مریضوں اور ڈاکٹروں دونوں کو مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ سرکاری پالیسی کے تحت ڈاکٹرز کو باہر کی ادویات تجویز کرنے پر پابندی عائد ہے، جس کے باعث علاج کا نظام متاثر ہو رہا ہے۔ذرائع کے مطابق متعدد سرکاری ہسپتالوں میں بنیادی ادویات تک دستیاب نہیں، جبکہ ڈاکٹرز حکومتی احکامات کے تحت مریضوں کو نجی میڈیکل اسٹورز سے دوائیں لکھ کر دینے سے گریزاں ہیں۔ محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے ڈاکٹروں کے خلاف کارروائیاں بھی کی جا چکی ہیں، جس سے طبی عملہ دباؤ کا شکار ہے۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ادویات کی عدم دستیابی کے باوجود وہ مریضوں کو متبادل راستہ نہیں بتا سکتے، جس کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک سینئر ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ “ہم چاہتے ہیں کہ مریض کو فوری علاج ملے، لیکن جب ہسپتال میں دوا نہیں اور باہر کی لکھنے پر پابندی ہو تو ہم بے بس ہو جاتے ہیں۔دوسری جانب مریضوں اور ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج کے دعوے صرف کاغذی رہ گئے ہیں۔ ایک مریض کے لواحقین نے بتایا کہ “ہم کئی گھنٹے قطار میں لگے رہے، مگر دوا نہ ملی۔ آخرکار ہمیں پرائیویٹ ہسپتال جانا پڑا جہاں مہنگا علاج کروانا ہماری مجبوری بن گئی۔ماہرین صحت کے مطابق، موجودہ صورتحال سے نجی ہسپتالوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے جبکہ عام شہری مالی بوجھ تلے دب رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر ادویات کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے یا ڈاکٹرز کو محدود حد تک باہر کی ادویات تجویز کرنے کی اجازت دینی چاہیے تاکہ مریضوں کو بروقت علاج مل سکے۔تاہم محکمہ صحت پنجاب کے حکام کا مؤقف ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں اور باہر کی ادویات لکھنے پر پابندی کا مقصد مریضوں کو غیر ضروری اخراجات سے بچانا ہے۔عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی پر نظرثانی کرے، تاکہ سرکاری ہسپتالوں پر عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔







