ملتان( سپیشل رپورٹر)ملتان سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں قائم اراضی ریکارڈ سنٹرز، جنہیں عوام کو فوری اور شفاف سہولیات فراہم کرنے کے لیے جدید نظام کے طور پر متعارف کروایا گیا تھا، اب مبینہ طور پر کرپشن، بدانتظامی اور عوامی استحصال کی علامت بن چکے ہیں۔ شہریوں کی بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ یہ مراکز سہولت کے بجائے اذیت کا باعث بن گئے ہیں جہاں اپنی ہی اراضی سے متعلق معمولی کام کروانا بھی ایک مشکل مرحلہ بن چکا ہے۔روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں سائلین صبح سویرے ٹوکن کے حصول کے لیے طویل قطاروں میں کھڑے ہو جاتے ہیں، مگر کئی افراد کو شام تک بھی اپنی باری نہیں ملتی۔ بزرگ شہری، خواتین اور معذور افراد بھی اسی ہجوم میں دھکے کھانے پر مجبور ہیں، جبکہ صرف ایک ونڈو پر شدید رش کے باعث کھینچا تانی معمول بن چکی ہے۔ صورتحال اس قدر ابتر ہے کہ آفس میں پینے کے صاف پانی کا بھی مناسب انتظام موجود نہیں، پنکھوں کی محدود ہوا اور شدید حبس شہریوں خصوصاً دل کےامراض میں مبتلا افراد کے لیے عذاب بن چکی ہے۔ بنچوں کی کمی کے باعث سائلین گھنٹوں کھڑے رہنے پر مجبور ہیں، جس سے ان کی جسمانی اور ذہنی اذیت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔دور دراز علاقوں سے آنے والے شہری عملے کی عدم توجہی کے باعث روزانہ خوار ہو رہے ہیں۔ سائلین کا کہنا ہے کہ اپنی اراضی کی ملکیت ثابت کرنے یا انتقال، فرد اور دیگر امور کے لیے انہیں بار بار چکر لگوائے جاتے ہیں۔ کبھی سسٹم کی خرابی، کبھی متعلقہ افسر کی عدم دستیابی اور کبھی معمولی کاغذی اعتراضات کو بنیاد بنا کر کام روک دیا جاتا ہے۔شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اراضی ریکارڈ سنٹرز میں مبینہ طور پر ٹاوٹ مافیا سرگرم ہے جو عملے کی ملی بھگت سے شہریوں کو لوٹنے میں مصروف ہے۔ بغیر سفارش یا اضافی رقم کے کام کا ہونا تقریباً ناممکن بنا دیا گیا ہے، جس کے باعث شہری اپنی ہی اراضی کے حقوق کے حصول کے لیے ہزاروں سے لے کر لاکھوں روپے تک خرچ کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔عوامی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے کرپشن کے خاتمے اور شفافیت کے دعوے اپنی جگہ، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ اگر فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو سکتا ہے۔شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور بورڈ آف ریونیو سمیت اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اراضی ریکارڈ سنٹرز میں جاری مبینہ کرپشن، ٹاوٹ مافیا اور بدانتظامی کا فوری نوٹس لیا جائے، ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور ایسے عملی اقدامات کیے جائیں جن سے عام آدمی کو بغیر رشوت اور سفارش کے اپنی اراضی سے متعلق مسائل کا فوری اور شفاف حل میسر آ سکے۔







