اسلام آباد،تہران،واشنگٹن(بیورورپورٹ،نیوز ایجنسیاں) ایرانی پاسداران انقلاب کی انٹیلیجس نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کو ناممکن جنگ یا خراب ڈیل میں سےکسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔بیان میں کہا گیا کہ ایران نےامریکا اور اسرائیل کی جارحیت کے مستقل خاتمےکے لیے جامع تجویزپیش کی ہے، امریکا اس معاملے سے نکلنے کے لیے فیس سیونگ چاہتاہے۔پاسداران انقلاب نے کہا کہ ایران نے اس تجویز کے ذریعے معاملہ دوبارہ ٹرمپ کے سامنے رکھ دیا ہے، اور ایران نے پینٹاگون کو ناکہ بندی سے متعلق ڈیڈلائن دی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ چین، روس اور یورپ کا واشنگٹن کےخلاف لہجہ بدل رہاہے، امریکا کے فیصلے کرنے کی گنجائش محدود ہوگئی ہے۔ایران کی جانب سے پیش کیے گئے امن منصوبے سے متعلق نئی تفصیلات سامنے آگئیں ۔ایران کی جانب سے پاکستان کے ذریعے امریکا کو بھیجے گئے تازہ امن منصوبے کی مزید تفصیلات سامنے آ گئیں۔عرب میڈیا کے مطابق منصوبے میں 30 دن کے اندر جنگ بندی کو مکمل امن میں تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق ایران کی جانب سے پیش کیا گیا منصوبہ 3 مراحل پر مشتمل ہے اور اس کا مقصد خطے میں کشیدگی کا خاتمہ اور مستقل امن کا قیام ہے۔منصوبے میں عدم جارحیت کا عہد شامل ہے جس میں اسرائیل کو بھی شامل کرنے کی بات کی گئی ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں دوبارہ جنگ کا امکان ختم کیا جا سکے۔منصوبے کے مطابق پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز کو بتدریج کھولنے اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکا بندی ختم کرنے کی تجویز شامل ہے جبکہ سمندر سے بارودی سرنگیں ہٹانے کا کام ایران خود کرے گا۔دوسرے مرحلے میں ایران کو ’زیرو اسٹوریج اصول‘ کے تحت 3.6 فیصد تک یورینیم افزودگی بحال کرنے کی اجازت دینے کی تجویز دی گئی ہے۔اس کے ساتھ امریکا اور اسرائیل ایران اور اس کے اتحادیوں پر حملے نہ کرنے جبکہ ایران کی جانب سے بھی حملے نہ کرنے کی شرط شامل ہے۔منصوبے میں ایران کے جوہری ڈھانچے کو ختم کرنے یا تنصیبات کو تباہ کرنے کی تجویز کو مسترد کیا گیا ہے جبکہ پابندیوں میں نرمی کے تحت منجمد فنڈز کی مرحلہ وار بحالی شامل ہے۔تیسرے مرحلے میں ایران نے عرب ممالک کے ساتھ اسٹریٹجک مکالمے کے آغاز اور پورے مشرق وسطیٰ پر مشتمل ایک مشترکہ سکیورٹی نظام کی تشکیل کی تجویز دی ہے۔اسلام آباد میں تعینات ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ایران نے ایک نیا مذاکراتی منصوبہ پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچا دیا ہے، تاہم اس میں پیشرفت کا انحصار امریکی رویے پر ہوگا۔ایرانی خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران اپنے مؤقف اور مطالبات میں واضح اور شفاف ہے، اور اگر امریکا واقعی مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو اسے اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ایران قومی مفادات اور دفاعی پالیسی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔رضا امیری مقدم کے مطابق جنگ کے خاتمے کے لیے یہ نیا سفارتی منصوبہ پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچایا گیا ہے، اور موجودہ عمل میں پاکستان ایک مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کردار میں کسی تبدیلی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران پر دوبارہ حملوں کے امکانات موجود ہیں اور اب تک ایران نے اپنے اقدامات کی بڑی قیمت ادا نہیں کی۔سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں ایران کی جانب سے پیش کی گئی ممکنہ ڈیل کی تجاویز سے آگاہ کیا گیا ہے تاہم وہ جلد ان کی تفصیلات کا جائزہ لیں گے۔انہوں نے شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ ایران کی پیشکش قابل قبول ہو سکے گی۔امریکی اخبار’’وال اسٹریٹ جرنل‘‘ نے دعویٰ کیاہے کہ ایران آئندہ ہفتے پاکستان میں مذاکرات کے اگلے دور کے لیے آمادہ ہوگیا۔امریکی اخبارکے مطابق ایران نے جنگ کے مستقل خاتمے کیلئے پاکستان کو تجویز پیش کردی ہے،اس کے علاوہ ایران ناکہ بندی ختم کرنے کی شرط سے دستبردار ہوگیاہے۔وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ایران کی جانب سے شرائط میں نرمی کا دعویٰ کیاگیاہے،جوہری پروگرام اور میزائل پروگرام پر بات چیت تاحال مؤخرہے۔ امریکی خبارکے مطابق جوہری پروگرام سے متعلق معاملات پر بات چیت کے بدلے امریکا کو ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کرنا ہوگی۔







