بہاولپور: ریلوے اراضی پر غیر قانونی بستیاں اور سکول قائم، کروڑوں کا نقصان

بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر) ملتان ریلوے ڈویژن کی حدود میں واقع متعدد مواضعات بہاولپور ضلع کی حدود میں وفاقی حکومت محکمہ ریلوے کی کروڑوں روپے مالیت کی اراضی پر ناجائز قبضوں کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ متعلقہ حکام کی عدم توجہی اور ناقص نگرانی کے باعث صورتحال سنگین اختیار کر چکی ہے۔دستاویزی ریکارڈ کے مطابق، موزہ بندرہ میں کھاتہ 451، کھتونی نمبر 875 کے تحت 418 کنال ایک مرلہ اراضی، جو کہ ملکیتِ سرکار اور محکمہ ریلوے پاکستان کے تصرف میں ہے، پر مختلف افراد نے غیر قانونی طور پر قبضہ جما رکھا ہے۔ اسی طرح انتقال نمبر 13384 مورخہ 4 فروری 2022 کے تحت مذکورہ اراضی کی ملکیت وفاقی حکومت کے نام درج ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ذرائع کے مطابق، مذکورہ اراضی پر نہ صرف رہائشی بستیاں قائم ہو چکی ہیں بلکہ پرائیویٹ اسکول بھی بغیر این او سی تعمیر کر دیے گئے ہیں، جو کہ پاکستان ریلوے ایکٹ 1890 اور پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ قانون کے مطابق سرکاری اراضی پر کسی بھی قسم کی تعمیر یا استعمال کے لیے متعلقہ محکمہ سے پیشگی اجازت لازمی ہوتی ہے۔ اسی نوعیت کی صورتحال موضع ویسلاں میں بھی سامنے آئی ہے، جہاں تقریباً کروڑوں 2230 کنال ریلوے اراضی موجود ہے جس میں ناجائز قابضین نے چند ایکٹروں پر قبضہ کرکے بستی بنا رکھی ہے جبکہ ریکارڈ میں یہ زمین بدستور وفاقی حکومت کی ملکیت ظاہر کی گئی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ متعلقہ لیز رجسٹر ریکارڈ (لینڈ رجسٹر) بھی مکمل طور پر انسپیکٹر آف ورکس نے اپڈیٹ نہیں کیا، جس سے بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔کہ ہر دو موضعاجات میں ٹوٹل رقبہ اور لیز پر دیا گیا رقبہ کا کتنا فرق ہے اور بقایہ رقبے پر کون قابض ہے لیز رجسٹر پر درج نہ کیا گیا ہےماضی میں تعینات افسران، بشمول ڈی ایس ریلوے اور دیگر متعلقہ حکام نے ضلعی انتظامیہ بہاولپور کے ساتھ متعدد اجلاس منعقد کیے اور اراضی کی نشاندہی کی بابت کمشنر بہاولپور سے میٹنگ کی گئی، تاہم ان کے تبادلہ کے بعد یہ معاملہ سرد خانے کی نذر ہو گیا۔ مزید برآں بعض اہلکاروں پر ناجائز قابضین کی پشت پناہی کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، جس سے ادارہ جاتی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ماہرین کے مطابق، سرکاری اراضی کا تحفظ ریاستی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس میں غفلت قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ریلوے کی تمام اراضی کی ڈیجیٹل سروے اور حد بندی فوری مکمل کی جائے ناجائز قابضین کے خلاف انسداد تجاوزات آپریشن کیا جائے ملوث افسران و اہلکاروں کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائ غیر قانونی تعمیرات، خصوصاً بغیر این او سی قائم اسکول کے خلاف کارروائی کی جائےعوامی و سماجی حلقوں نے سی ای او ریلوے اور ڈائریکٹر پراپرٹی اینڈ لینڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری نوٹس لے کر قیمتی اراضی کو واگزار کروائیں اور ذمہ داران کا احتساب یقینی بنائیں، تاکہ قومی اثاثوں کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔یہ معاملہ نہ صرف انتظامی نااہلی بلکہ قانون کی عملداری پر بھی سوالیہ نشان ہے، جس کے فوری اور شفاف حل کی ضرورت ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں