جامعہ زکریا، کروڑوں خرچ کے باوجود سولر منصوبہ تعطل کا شکار، فیسوں کا پیسہ ضائع

ملتان ( قوم ریسرچ سیل ) پیسہ متوسط طبقے کے غریب والدین کی دن رات کی محنت سے جمع کی گئی فیسوں کا اور بے رحمانہ کرپشن یونیورسٹی انتظامیہ کی ، ہزاروں والدین اس مشکل دور میں کس طرح پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کی فیسیں ادا کرتے ہیں اس کا یونیورسٹی انتظامیہ کو سرے سے کوئی احساس ہی نہیں، تقریباً دو سال قبل بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی شاہ نے فیصلہ کیا تھا کہ بجلی کے بلوں کی مد میں یونیورسٹی کو ہر سال کروڑوں روپے کا نقصان ہوتا ہے جس کے باعث مختلف کمپنیوں سے کوٹیشنز لی گئیں اور 640 کلو واٹ کا سولر سسٹم لگانے کے لیے مختلف کمپنیوں سے رابطہ کیا گیا اور 6 کروڑ 75 لاکھ روپے میں ایک کمپنی کے ساتھ سولر سسٹم کے معاملات طے پا گئے مگر اس دوران پروفیسر ڈاکٹر محمد علی شاہ تبدیل ہوگئے اور پروفیسر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری نے زکریا یونیورسٹی کے مستقل وائس چانسلر کا چارج سنبھال لیا اور یہ منصوبہ منظوری کے پراسس کے دوران ہی سات کروڑ 17 لاکھ 14 ہزار 907 روپے تک پہنچ گیا تو الجابر انرجی سروسز کو سولر سسٹم کی تنصیب کا ٹھیکہ دیا گیا جس کا ورک آرڈر پراجیکٹ ڈائریکٹر عبد الستار ملک کی جانب سے 3 جولائی 2025 کو جاری ہوا، جس کا لیٹر نمبر 144 ہے ۔ اس ورک آرڈر کے تحت تین مہینے میں یہ پراجیکٹ مکمل ہونا تھا جبکہ پراجیکٹ کو چلانے اور دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی ٹھیکہ دار الجابر انرجی سروسز کی تھیں ، منصوبہ کو دس ماہ گزر چکے ہیں اور ان مہینوں کے دوران موقع پر صرف سٹرکچر اور ایک قطار میں چند پلیٹیں کھڑی ہیں اور زمین میں نصب کئے گئے راڈ بھی ٹھیکے دار کے بجائے یونیورسٹی کے ملازمین سے جبری لگوائے گئے جبکہ ادائیگیاں ٹھیکے دار کو کردی گئیں مگر حیران کن طور پر اسی دوران انہی پیسوں میں سے محض 25 دن کے اندر اندر اسلام آباد کے ایک گھر میں سولر سسٹم لگ کر آپریشنل بھی ہوگیا اب یونیورسٹی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر انجینئر ڈاکٹر عبدالستار ملک یونیورسٹی ملازمین سے مزدوری کروا کر بنائے گئے سٹرکچر کے عوض ٹھیکے دار کو ایک کروڑ تیس لاکھ روپے ادا کر چکے ہیں اور کام دس ماہ سے رکا ہوا ہے، اس دوران پلیٹیں سستی ہوکر دوبارہ مہنگی ہوچکی ہیں یونیورسٹی ذرائع کے مطابق انہی پیسوں سے اسلام آباد والا سولر سسٹم تو دھڑا دھڑ بجلی بنا رہا ہے اور یہاں ملتان میں خالی ڈنڈے منہ چڑا رہے ہیں اور اسی عرصے کے دوران اس تاخیر کی وجہ سے وہ پراجیکٹ جس نے تقریباً ساڑھے سات کروڑ روپے میں مکمل ہوکر سات ماہ قبل یونیورسٹی کے سسٹم کو بجلی کی سپلائی شروع کر دینی تھی اب تک پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر عبد الستار ملک کی نااہلی کی وجہ سے بجلی بلوں کی مد تقریباً دس کروڑ روپے سے زائد کا علیحدہ سے نقصان پہنچ چکا ہے، ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر عبد الستار ملک کی نااہلی کا یہ عالم ہے کہ سولر تنصیب کی واپڈا سے مبینہ طور پر منظوری بھی نہیں لی گئی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں