ملتان (سپیشل رپورٹر) ملتان کے قلب میں واقع لاری اڈے اور سوئی گیس روڈ کے گرد پھیلتا ہوا غیر قانونی تعمیرات کا جال اب ایک نئے، نہایت خطرناک موڑ میں داخل ہو چکا ہے۔ تازہ ترین انکشافات کے مطابق لاری اڈے پر راجپوت اے سی بس ٹرمینل کے ساتھ ہی ایک نیا تین منزلہ کمرشل پلازہ نہ صرف تعمیر ہو چکا ہے بلکہ اس کی تیسری منزل پر تعمیراتی کام تاحال جاری ہے—وہ بھی سرِعام، بغیر کسی خوف یا روک ٹوک کے۔ یہ پلازہ مبینہ طور پر ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی، سوئی گیس حکام اور پیرا فورس ڈیپارٹمنٹ کی “سہولت کاری” کے نتیجے میں تعمیر کیا گیا۔ سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ یہ عمارت محض 10 فٹ کے فاصلے پر اس مرکزی سوئی گیس پائپ لائن کے قریب کھڑی کی گئی ہے جو ملک کے مختلف بڑے شہروں کو گیس فراہم کرتی ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اتنے کم فاصلے پر اس نوعیت کی بھاری تعمیرات کسی بھی وقت پائپ لائن کے پھٹنے کا سبب بن سکتی ہیں، جس کے نتائج ناقابلِ تصور تباہی کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔ مزید حیران کن انکشاف یہ سامنے آیا ہے کہ کارنر پر قائم اس پلازے کے شیڈز بھی مین روڈ تک بڑھا دیے گئے ہیں، جس سے نہ صرف ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے بلکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ریسکیو آپریشن بھی ناممکن ہو سکتا ہے۔ قانون کے مطابق 30 فٹ کمرشل پارکنگ کی گنجائش لازمی ہوتی ہے، مگر یہاں اس بنیادی تقاضے کو بھی مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ سوئی گیس روڈ پر کاغذوں میں زرعی زمین کو کمرشل پلازوں میں تبدیل کرنے کا یہ سلسلہ آخر کس کی سرپرستی میں جاری ہے؟ کیا ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے متعلقہ افسران، پیرا فورس ڈیپارٹمنٹ کے ایس ڈی او، اور سوئی گیس کے اعلیٰ حکام اس سنگین خلاف ورزی سے لاعلم ہیں؟ یا پھر یہ سب کچھ ان کی خاموش منظوری سے ہو رہا ہے۔ ایک اہم سوال یہ ہے کہ ایک طرف غریب ریڑھی بانوں کے خلاف آپریشنز کر کے ان کا روزگار چھینا جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف اربوں روپے مالیت کے غیر قانونی پلازوں کو نہ صرف نظر انداز کیا جا رہا ہے بلکہ مبینہ طور پر ان کی راہ بھی ہموار کی جا رہی ہے۔ یہ دہرا معیار نہ صرف قانون کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے بلکہ انسانی جانوں کے ساتھ کھلا کھیل بھی ہے۔ شہریوں کا اعلیٰ حکام سے مطالبہ ہے کہ سوئی گیس حکام فوری طور پر اس حساس مقام کا معائنہ کریں اور واضح کریں کہ آیا وہ اس ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے کوئی کارروائی کریں گے یا کسی بڑے سانحے کے انتظار میں ہیں۔ اسی طرح کمشنر ملتان اور ضلعی انتظامیہ سے بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ یاد رہے کہ ملتان کے لاری اڈے پر واقع سوئی گیس روڈ کے نیچے گزرنے والی مرکزی گیس پائپ لائن ملک کے اہم شہروں اوچ شریف، ملتان، فیصل آباد، لاہور اور اسلام آباد کو گیس فراہم کرتی ہے۔ اس حساس لائن کے اوپر کسی بھی قسم کی تعمیرات نہ صرف قانوناً ممنوع ہیں بلکہ انسانی جانوں کے لیے شدید خطرہ بھی ہیں۔ اس کے باوجود کروڑوں روپے مالیت کے کمرشل پلازے تعمیر ہو رہے ہیں، دکانیں فروخت کی جا رہی ہیں، اور متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ ماہرین خبردار کر چکے ہیں کہ کسی بھی ممکنہ حادثے کی صورت میں نہ صرف عمارتیں بلکہ پورا علاقہ تباہ ہو سکتا ہے—اور اس کا خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑے گا۔







