تہران: ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں کھلی جارحیت قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکی کارروائیاں کسی بھی صورت دفاعِ خودی کے زمرے میں نہیں آتیں اور یہ دعویٰ حقیقت کے برعکس ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں اسماعیل بقائی نے امریکی محکمہ خارجہ کی اس وضاحت کو بھی چیلنج کیا جس میں کہا گیا تھا کہ یہ کارروائی اسرائیل کے اجتماعی دفاع اور امریکا کے اپنے دفاع کے تحت کی گئی۔
ایرانی ترجمان نے سوال اٹھایا کہ آخر کس چیز کے خلاف دفاع کیا گیا؟ کیا ایران نے کوئی مسلح حملہ کیا تھا جس کی بنیاد پر یہ اقدام جائز قرار دیا جا سکے؟ ان کے مطابق اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس صورتحال کو دفاعِ خودی کہنا گمراہ کن ہے، درحقیقت یہ ایران کے خلاف ایک واضح جارحانہ قدم ہے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان اس طرح کے بیانات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، جبکہ سفارتی سطح پر بھی اختلافات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔







