جام پور (تحصیل رپورٹر )رجسٹری برانچ جامپور میں 90 کروڑ روپے کی جعلی رسیدوں کے بعد ایک اور کرپشن کا انکشاف ہوا ہے بتایا گیا ہے کہ سابق سب رجسٹرار ملک فیاض احمد کی تعیناتی کے دوران ایف بی آر کی جعلی رسیدیں لگا کر حکومت کو 90 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا یا گیا ہے بعد ازاں انکوائری سے بچنے کیلئے ایک کلرک کو معطل کیا گیا حال ہی میں سب رجسٹرار افس میں پرائیویٹ افراد کا قبضہ سرکاری فیسوں میں کروڑوں روپے کی کرپشن کا انکشاف ہوا ہے بتایا گیا ہے کہ سب رجسٹرار آفس میں اویس میو نامی شخص کو سب رجسٹرار افس میں بٹھایا گیا ہے حالانکہ اس کے نام پر اراضی معاون کی فرنچاءز رجسٹرڈ ہے اور اس کا ایک بھائی عامر عا ربی وثیقہ نویس کے پاس ملازم ہےجو کہ ایک ہزار روپے ہر رجسٹری میں لے کر اپنے بھائی کے ذریعہ اسی وقت رجسٹری کا پرنٹ دے دیتا ہے جبکہ باقی افراد کو دوسرے دن رجسٹری جاری کی جاتی ہے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایک پرائیویٹ منشی پچیس ہزار روپے لے کر آبادی دیہ کی رجسٹری پاس کرا دیتا ہے جو کہ ایک لاکھ روپے سب رجسٹرار کے نام پر پاس کرانے کے لئے جاتے ہیں اور ایک سابق پٹواری جامپور کے دستخط کئے جاتے ہیں حکومتی فیسوں میں کمی کی جاتی ہے اور نا جائز وارثان کو جائز ڈکلیر کر کے بھی حکومت کو خوب نقصان پہنچا یا جا رہا ہے واضح رہے کہ پہلے بھی ایف بی آر کی فیسوں میں نوے کروڑ روپے کی کرپشن کی گئی ہے جس کی انکوائری دو سال گزارنے کے باوجود بھی مکمل نہ کی گئی ہے ۔مقامی شہریوں محمد اختر محمد عارف اور عاشق حسین نے کمشنر ڈیرہ غازیخان اور کمشنر ان لینڈ ریونیو ڈیرہ غازیخان سے فوری طور پر انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔







