رحیم یارخان(بیورو رپورٹ)غربت،مہنگائی اور بے روزگاری کی ستائی ہوئی عوام ٹریفک پولیس کے ہاتھوں بھی لٹنے لگی،چلان ٹارگٹ پورا کرنے کیلئے سٹی ٹریفک پولیس کے جگہ جگہ ناکے،ہیلمٹ، لائسنس مہم کے نام پر اہلکاروں کی دیہاڑیاں،دیہاڑی دار،دیہاتی افراد آسان ٹارگٹ،ٹریفک وارڈنز نے صحافیوں کو بھی نہ بخشا2،2 ہزار کے چلان کئے جانے لگے،شہری پھٹ پڑے۔تفصیل کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ٹریفک رولز پالیسی غریب عوام کیلئے وبال جان بن گئی،سٹی ٹریفک پولیس کے رحیم یارخان شہر میں خانپور اڈا،ڈی پی او آفس،سٹی پل،عباسیہ پل،لیور پل،وائرلیس پل،نورے والی پھاٹک،چوک بہادر پور روڈ،چوک شہباز پور روڈ،نیو جنرل بس اسٹینڈ سمیت مختلف علاقوں میں ناکے،ہیلمٹ لائسنس مہم کے نام پر شہریوں کو بے جا چالان کئے جانے کا انکشاف،ٹریفک پولیس کے اہلکاروں نے سرکاری ملازمین اور صحافیوں کو بھی بخشا،مضافاتی علاقوں سے حصول رزق کیلئے شہر آنیوالے دیہاڑی دار اور دیہاتی افراد ٹریفک پولیس کا آسان ٹارگٹ بن گئے،روزانہ کی بنیاد پر فی پوائنٹ 30 سے 35 چالانوں کے ٹارگٹ نے ٹریفک پولیس کے اہلکاروں کو غنڈے بنادیا،راجن پور کلاں کے صحافی انیس الرحمٰن سومرو،رحیم یارخان کے شہری راؤ شرافت علی،محسن حسین،غلام باری،احمد رضا،حمزہ سلیم،محمد نوید،جام کاشف،علی حسن،ارسلان مشتاق ،محمد امین و دیگر نے بتایا کہ وہ محنت مزدوری کی غرض سے روزانہ کی بنیاد پر شیخ واہن،ڈیرہ شمس،اقبال آباد، تاجگڑھ،فتح پور پنجابیاں،بدلی شریف،بستی پٹواری،بستی راضی،بستی سلطان،تھلواڑی و دیگر علاقوں رحیم یارخان شہر آتے ہیں،خانپور اڈا،سٹی پل،عباسیہ پل اور لیور پل پر ٹریفک پولیس اہلکار ہیلمٹ،لائسنس مہم کو جواز بنا کر روکتے ہیں،موٹرسائیکل کے کاغذات،لائسنس دیکھنے کے بعد ہیلمٹ کو جواز بنا لیتے ہیں اگر ہیلمٹ بھی ہو ٹریفک قوانین،اشارے پر نہ رکنے کا جواز بنا کر 2000 کا چالان کردیا جاتا ہے،دوسری جانب ٹریفک پولیس ناکوں پر موجود ٹریفک پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹروں،سب انسپکٹروں کا کہنا ہے کہ ڈی ایس پی ٹریفک محمد ساجد،انسپکٹر ہیڈ کواٹرشاہد عمران سنگھیڑا کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر 30 سے 35 چالان کا ٹارگٹ دیکر ناکوں پر ڈیوٹیاں لگا دی جاتی ہیں اگر شام کو چالان کی ریشو پوری نہ ہو تو محکمہ کی جانب سے نوکری کے لالے پڑ جاتے ہیں اور اگر چلان ٹارگٹ پورا کرتے ہیں تو غریبوں کی ہائے لگتی ہے اب ہم سرکار کے نوکر ہیں جائیں تو جائیں کہاں۔







