واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران 11 طیارے مار گرائے گئے تھے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران اور خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بعض حلقے موجودہ صورتحال کو جنگ بھی قرار دے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی معیشت مضبوط ہے اور اسٹاک مارکیٹ نئی بلندیاں چھو رہی ہے، جبکہ ایران کی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے کیونکہ ناکہ بندی کے باعث اس کی آمدن متاثر ہوئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی 90 فیصد میزائل بنانے والی تنصیبات تباہ کر دی گئی ہیں، جبکہ اس کی بحری اور فضائی صلاحیتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق ڈرون اور میزائل بنانے کی صلاحیت میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے گزشتہ جون میں ایران کی جوہری صلاحیتوں کو نقصان پہنچایا تھا اور اب ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔ ٹرمپ کے مطابق ایران معاہدہ چاہتا ہے لیکن قیادت کے اندر اختلافات موجود ہیں۔
انہوں نے عندیہ دیا کہ وہ فوری طور پر جنگ کے دوبارہ آغاز کے حق میں نہیں، تاہم حالات کے مطابق تمام آپشنز موجود ہیں۔ ان کے مطابق مذاکرات سے متعلق مکمل معلومات صرف چند افراد کے پاس ہیں۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع ختم ہونے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے۔
مزید بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں ایران کی فیفا ورلڈکپ میں شرکت پر کوئی اعتراض نہیں، جو اس سال شمالی امریکا میں منعقد ہوگا۔
یورپ میں امریکی فوجی موجودگی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اٹلی اور اسپین سے فوجی انخلا پر غور کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاک بھارت جنگ کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے ان سے کہا تھا کہ ان کی کوششوں سے 3 سے 5 کروڑ جانیں بچائی گئیں۔
مزید برآں ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے ان کی بات پر 8 خواتین کو پھانسی دینے کا فیصلہ واپس لیا، جبکہ اس سے قبل ایران میں 42 ہزار مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔







