میاں فاروق نذیر کی ریٹائرمنٹ قریب، پنجاب جیل خانہ جات قیادت کیلئے سخت مقابلہ

ملتان (شیخ نعیم سے) آئی جی جیل خانہ جات پنجا ب میاں فاروق نذیرجو اپنے شاندار انتظامی اور اصلاحاتی اقدامات کی بدولت ایک نمونہ افسر بنے، حال ہی میں 22ویں گریڈ میں ترقی پا کر آئندہ چند ماہ میں ریٹائر ہو نگے۔ ان کی قیادت میں پنجاب کی جیلوں میں ایک نئی روح پھونکی گئی۔ میاں فاروق نذیر نے قیدیوں کی فلاح اور بہبود کو اولین ترجیح بنایا اور ان کے دور میں جیلوں میں اصلاحات کا ایک نیا دور شروع ہوا۔میاں فاروق نذیر نے پنجاب کی 44 جیلوں کامعائنہ کیاجہاں سکیورٹی کو مضبوط بنایا گیا، صفائی کا معیار بہتر ہوا اور قیدیوں کو تعلیمی و اصلاحی سرگرمیوں کے مواقع فراہم کیے گئے۔ ان کی کوششوں سے جیلوں میں موبائل فون کے استعمال پر قابو پایا گیا، قیدیوں کو طبی سہولیات میں اضافہ ہوا اور اصلاحی سرگرمیوں کے ذریعے ان کی زندگی میں مثبت تبدیلی آئی۔اب میاں فاروق نذیر کی ریٹائرمنٹ کے بعد اس اعلیٰ عہدے کے لیے میاں مبشر احمد خان، عبدالرئوف رانا، کوکب ندیم وڑائچ، اور میاں سالک جلال اس دوڑ میں شامل ہیں۔ ہر ایک نے اپنے اپنے حلقے میں جیل اصلاحات، نظم و ضبط اور قیدیوں کی فلاح کے لیے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ میاں مبشر احمد خان نے جیلوں میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا، عبدالرئوف رانا نے قیدیوں کو نفسیاتی معاونت فراہم کرنے پر زور دیا، کوکب ندیم ورائچ نے نظم و نسق کو بہتر بنایا اور میاں سالک جلال نے قیدیوں کی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کو فروغ دیا۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف پنجاب کی جیلوں کے مستقبل کے لیے اہم ہے بلکہ یہ قیدیوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کا ایک نیا دور بھی ثابت ہو گا۔ امید کی جاتی ہے کہ نئے آئی جی جیل خانہ جات بھی اسی جذبے اور محنت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے جیسا کہ میاں فاروق نذیر نے اپنی پوری مدت میں کیا- باوثوق ذرائع کےمطابق تاحال نئے آئی جی پنجاب جیل خانہ جات کے فیورٹ مبشر احمد خان ہیں کیونکہ مبشر احمد خان اس سے قبل بھی آئی جی جیل خانہ جات کی دوڑ جیت چکے ہیں اور ان کے بارے میں محکمہ جیل خانہ جات انہیں ایک قابل افسر کے حوالے سے پسندیدہ شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ مزید آئندہ چند ماہ میں معاملات واضح ہو جائیں گے ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں