نشتر ڈائلیسز غفلت کیس، ایچ آئی وی ایک ہی ذریعے سے پھیلا، 30 مریض متاثر، نظام ناکام ثابت

ملتان (وقائع نگار)نشتر ہسپتال کے ڈائلیسز یونٹ میں اکتوبر تا دسمبر 2024 کے دوران پیش آنے والے ایچ آئی وی (HIV/AIDS) کے پھیلاؤ کے واقعے میں تقریباً 30 مریض ایچ آئی وی کا شکار ہوئے جن میں سے ایک مریض شاہنواز عمر 40 سال کی موت بھی ہو گئی تھی۔ تحقیقاتی رپورٹس میں ہسپتال انتظامیہ اور طبی عملے کی سنگین غفلت کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھاتفصیلات کے مطابق نشتر ہسپتال کے نیفرولوجی/ڈائلیسز یونٹ میں ایک HIV مثبت مریض کا ڈائلیسز کیا گیاجس کے بعد وائرس دیگر مریضوں میں منتقل ہو گیا۔تھا ابتدائی طور پر 25 مریضوں میں انفیکشن کی تصدیق ہوئی بعد میں سکریننگ کے دوران مزید کیسز سامنے آئے۔ ہسپتال میں کل 270 کے قریب ڈائلیسز مریض رجسٹرڈ تھے۔ جینیٹک (Phylogenetic) مطالعے سے ثابت ہوا کہ تمام متاثرہ مریضوں میں وائرس ایک ہی ذریعے سے پھیلا جو ہسپتال کے اندرونی انفیکشن کنٹرول کی ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔نیشنل گائیڈ لائنز کے مطابق ڈائلیسز مریضوں کا ہر چھ ماہ بعد HIV سکریننگ لازمی ہےلیکن نشتر ہسپتال میں ایک سال سے زائد عرصے سے یہ ٹیسٹ نہیں کیے گئے تھے ڈائلیسز مشینوں کی مناسب سٹیرلائزیشن (جراثیم کشی) کے پروٹوکولز کی خلاف ورزی کی گئی تھی ۔ڈسپوزایبل ڈائلیسز کٹس کا دوبارہ استعمال یا ناکافی احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں تھیں ۔انفیکشن کنٹرول کمیٹی مہینوں سے نہیں ملی تھی۔تین HIV مثبت مریضوں کے لیے مخصوص مشینوں پر غیر متاثرہ مریضوں کو ڈائلیسز دیا گیا جو مجرمانہ غفلت قرار دیا گیا۔انکوائری کمیٹی نے ہسپتال کے اعلیٰ افسران سمیت میڈیکل سپرنٹنڈنٹ، نشتر میڈیکل یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر مہناز اور دیگر سٹاف کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ پنجاب حکومت نے فوری طور پرایم ایس اور متعلقہ سٹاف کو معطل کر دیا تھاجبکہ انکوائری رپورٹ میں ان کے خلاف ڈسپلنری کارروائی، ہٹانے اور قانونی اقدامات کی سفارش کی گئی مگر بعد میں مبینہ طور پر سیاسی سفارش پر وائس چانسلر ڈاکٹر مہناز خاکوانی کو بچا لیا گیا تھا ۔واقعہ کے بعد ہسپتال انتظامیہ نے نئے مریضوں کی رجسٹریشن عارضی طور پر روک دی تھی اور تمام ڈائلیسز مریضوں کی دوبارہ سکریننگ شروع کی گئی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی اس معاملے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے ہسپتال کا دورہ کیا اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا ۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ پاکستان کے سرکاری ہسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کے نظام کی کمزوریوں کو نمایاں کرتا ہے۔ ڈائلیسز جیسے حساس علاج میں ایک بھی لاپروائی مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن اور دیگر اداروں نے بھی رپورٹس میں ہسپتال کے اندرونی کنٹرولز کی شدید ناکامی کی نشاندہی کی۔متاثرہ مریضوں اور ان کے لواحقین نے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ حکومت نے متاثرین کو علاج اور معاوضے کی یقین دہانی کرائی تھی جبکہ ڈائلیسز یونٹ کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے گئے ۔یہ سانحہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے المیہ ہے بلکہ پورے صحت کے شعبے کے لیے ایک سبق بھی ہے کہ مریضوں کی جانوں سے کھیلنے والی غفلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انکوائری کی مکمل رپورٹ کے بعد اب قانونی کارروائی اور نظام میں اصلاحات کی طرف توجہ مرکوز کی جانی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات پیش نہ آئیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں