چھیالیس سالہ جرائم کے باوجود مریدانوکانی کو معافی، فبائلی سہولت کاری کا انکشاف

ملتان (کرائم سیل رپورٹ) مریدا نوکانی، جس کے سر کی قیمت 20 لاکھ مقرر تھی، 46 سال تک لگاتار قتل و غارت، اغوا برائے تاوان، ڈکیتی، پولیس مقابلے، بھتہ خوری، ایس پی کو فائرنگ سے زخمی کرنے اور دو سب انسپکٹروں کو شہید کرنے کے باوجود قبائلی سرداری نظام کی چھتری تلے مکمل سہولت کاری کے ساتھ نہ صرف معافی پا گیا بلکہ ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے تمام تر میڈیا کو سختی سے وارننگ دی گئی کہ مریدا نکانی کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی منفی خبر شائع نہیں ہو گی، یہاں پنجاب نہیں بلوچستان کلچر چلتا ہے۔ اس طرح ایک ہی رات میں مریدا ڈاکو سردار مرید نوکانی قرار پا گیا پھر جس کے ہاتھوں پر ہتھکڑیاں اور پاؤں میں بیڑیاں پہنائی جانی تھی اس کے گلے کو پھولوں کے ہاروں سے لاد دیا گیا۔ پاکستان کی لا قانونیت اور غنڈہ گردی کی تاریخ کا یہ ایک منفرد حادثہ ہے کہ ایک ڈاکو کی 46 سالہ مجرمانہ زندگی مکمل طور پر سرداری نظام کے سہولت کاری کے تحت گزری اور باوجود اس کے کہ وہ ایس پی کو پولیس مقابلے میں زخمی کرنے اور سب انسپکٹر محمد موسیٰ و سب انسپکٹر غلام حسین کو شہید کرنے میں بھی ملوث ہے مگر گورچانی سردار اسے معافی دلوانے میں کامیاب ہو گئے اور اس معافی کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب کے سامنے ایک ایسی تصویر پیش کی گئی کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف جو کہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف کاروائی کے حوالے سے زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، مریدے نکانی کی سر عام معافی پر رضامند ہو گئیں۔ انتہائی ذمہ دار ذرائع کے مطابق ایک طے شدہ منصوبے کے تحت کہانی گھڑی گئی کہ مریدا نکانی راجن پور اور بلوچستان کے جس پہاڑی علاقے میں پناہ گزین ہے وہ بلوچستان اور پنجاب کی ایک ایسی گزرگاہ ہے جہاں سے آسانی سے کالعدم بی ایل اے کے لوگ پنجاب میں داخل ہو کر بدامنی پھیلا سکتے ہیں اور اس سلسلے میں کالعدم بی ایل اے کے انتہا پسندوں نے مریدا نکانی سے رابطہ کر رکھا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ مریدا ان کے ساتھ شامل ہو جائے اور پنجاب میں امن و امان کی فضا خراب ہو جائے لہٰذا بہتر ہے کہ اسے معافی دے کر سسٹم میں لایا جائے۔ اس گھڑی گھڑائی کہانی کو مزید تقویت دینے کے لیے حکومت پنجاب کے ایک ذیلی خفیہ ادارے سے بھی فرضی رپورٹنگ کروائی گئی اور مقامی پولیس کو بھی مریدے نکانی کے حوالے سے “راہ راست” پر لانے کے لیے اندر خانے کوششیں کی گئیں کہ پولیس اپنے مقتولین کا بدلے لینے کے ارادے سے باز آ جائے، اس طرح پولیس حکام نے بھی خاموشی اختیار کرکے گرین سگنل دے دیا۔ اس صورتحال کے حوالے سے ڈیرہ غازی خان میں کئی سال تک تعینات رہنے والے ایک پولیس آفیسر نے روزنامہ قوم کو بتایا کہ مریدے نکانی اور دیگر تمام ڈاکوؤں کو کسی نہ کسی حوالے سے مقامی ذمہ داروں اور سرداروں کی سرپرستی حاصل ہوا کرتی تھی مگر دیگر ڈاکو اور اغوا برائے تاوان کے گینگ جب طاقت پکڑے جاتے تھے تو سرداروں کو ہی آنکھیں دکھانے لگ جاتے تھے لہٰذا پھر ان کے دن گنے جاتے تھے اور کسی نہ کسی دن پولیس مقابلہ ان کا مقدر بن جاتا تھا جبکہ مریدا نکانی 46 سال تک مسلسل جرائم کی دنیا میں رہ کر اپنے طویل جرائم کی سزا بھگتے بغیر صرف اس لیے معافی پا گیا کہ اس نے کبھی اپنے سہولت کار سرداروں کی حکم عدولی نہیں کی تھی اور وہ جو کچھ بھی کرتا تھا اپنے سرداروں کے نوٹس میں لاتا تھا اور اگر کبھی سرداروں پر کہیں سے دباؤ آتا تو وہ مغویان کو واپس بھی کر دیتا تھا اور تاوان بھی نہ لیتا تھا۔ اسی قسم کے ایک واقعے میں مریدے نے غازی گھاٹ کے علاقے سے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کو اغوا کیا تھا جس کا اس وقت کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے سخت نوٹس لیا اور مقامی سرداروں کو سختی سے تنبیہ کی تھی کہ کسی بھی صورت میں ڈاکٹر کو برآمد کیا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ مغوی ڈاکٹر کو مریدے نے ایک بھی روپیہ تاوان لیے بغیر چھوڑ دیا تھا مگر سہولت کاری کرنے والے سردار نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کے ورثاء سے تاوان کی مد میں اچھی خاصی رقم بٹور لی تھی۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ کھلے اہم معافی کے صرف پانچ دن بعد ہی راجن پور کے پہاڑی علاقے کے مکینوں نے مریدے نکانی کو اسی طرح سے دوبارہ اسلحے کے ساتھ ڈبل کیبن ڈالے پر کھلے عام پھرتے ہوئے دیکھا جس طرح وہ ماضی میں پھرتا تھا۔ یہاں یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ پولیس نے اپنے دو شہداء سب انسپکٹر کے ورثا کو معافی کے حوالے سے اعتماد میں لینا تک بھی گوارا نہ کیا۔ معلومات کے مطابق دونوں مقتولین سب انسپکٹروں کے ورثا نے راجن پور پولیس کے اعلیٰ حکام کہ روبرو شکوے اور بے بسی کا اظہار کیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں