ملتان(وقائع نگار ) نشتر ہسپتال ملتان میں ڈائیلسز مریضوں میں ایچ آئی وی کیسز سامنے آنے کے معاملے پر تادیبی کارروائی کے خلاف وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی اور سابق ہیڈ آف نیفرالوجی کی نظرثانی کی اپیل وزیراعلیٰ پنجاب نے منظور کرلی ہے اور اس معاملے کی سماعت کے لئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب احمد رضا سرور کو بطور ہیئرنگ آفیسر مقرر کر دیا ہے، جو درخواست گزاروں کو ذاتی سماعت کا موقع فراہم کریں گے، درخواست گزاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 7 روز کے اندر اپنا تحریری جواب ہیئرنگ آفیسر کو جمع کروائیں، بصورت دیگر یہ تصور کیا جائے گا کہ وہ صفائی پیش کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے،درخواست گزاروں میں پروفیسر ڈاکٹر غلام عباس سابق ہیڈ آف نیفرولوجی و رجسٹرار اور پروفیسر ڈاکٹر مہناز خاکوانی وائس چانسلر شامل ہیں۔ واضح رہے کہ مذکورہ افسران نے اپنے خلاف جاری کردہ احکامات کو کالعدم قرار دینے، الزامات سے بریت اور سروس میں بحالی سمیت دیگر مراعات کی بحالی کی استدعا کی ہے،دستاویزات کے مطابق درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے خلاف کارروائی قانونی تقاضوں اور اصول انصاف کے برعکس کی گئی، لہٰذا انہیں فوری طور پر بحال کیا جائے اور تمام بقایا فوائد فراہم کئے جائیں ،واضح رہے کہ نشتر ہسپتال ملتان میں ڈائیلاسس کے مریضوں میںبڑی تعداد میں ایچ آئی وی کیسز سامنے آنے کے بعدحکومت پنجاب نے اعلی سطحی تحقیقات اورسپیشل برانچ کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کی بنیاد پر متعدد افسران کے خلاف پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاؤنٹیبلٹی (پیڈا) ایکٹ 2006 کے تحت انکوائری شروع کی تھی، بعد ازاں مشترکہ انکوائری کمیٹی اور ہیرنگ آفیسر کی سفارشات کی روشنی میں بعض افسران کو سزائیں جبکہ بعض کو الزامات سے بری کر دیا گیا تھا،سرکاری فیصلے کے تحت وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی ڈاکٹر مہناز خاکوانی کی ایک سال کی سابقہ سروس ضبط کرنے،ہیڈ آف نیفرالوجی پروفیسر ڈاکٹر غلام عباس کو جبری ریٹائرمنٹ دینے،ایم ایس ڈاکٹر محمد کاظم کی ایک سال کے لیے سالانہ اضافہ روکنے اورایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر پونم خالد کو تین سال کے لیے نچلے عہدے پر تنزلی کی سزا دی گئی تھی، جبکہ ڈاکٹر ملیحہ جوہر زیدی، ڈاکٹر عالمگیر ملک اور ہیڈ نرس ناہید پروین کو الزامات سے بری قرار دیا گیا تھا،وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مہنازخاکوانی اور ہیڈآف نیفرالوجی پروفیسر ڈاکٹر غلام عباس نے اپنی سزا کے خلا ف وزیراعلیٰ پنجاب کو اپیل کی اور انہیں خلاف قاعدہ قرار دیا ، جس پر نظرثانی کی اپیل منظور کرتے ہوئے ذاتی شنوائی کے لئے ہیئرنگ آفیسر مقرر کردیا گیا ہے ،ہیئرنگ آفیسر سماعت مکمل کرنے کے بعد اپنی سفارشات پیش کریں گے جس کے بعد نظر ثانی درخواست پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔







