لودھراں محکمہ صحت کرپشن کیس، 3 افسروں کی برطرفی کی سفارش، ایک بیرون ملک فرار

لودھراں(مرزا ندیم) محکمہ صحت میں مبینہ کرپشن، بدعنوانی سمیت کروڑوں روپے کی ادویات مبینہ دیگر صوبوں میں سپلائی کرنے کا معاملہ تین افسران کے خلاف برطرفی کی سفارش ایک بیرون ملک ہونے کی وجہ سے بچ جانے میں کامیاب۔تفصیلات کے مطابق مطابق گزشتہ ماہ اینٹی کرپشن ملتان ٹیم نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر لودھراں میں مبینہ بد عنوانی اور کرپشن کی اطلاعات سمیت ادویات کو دیگر صوبوں میں فروخت کرنے کے الزام میں بھاری نفری کے ہمراہ چھاپہ مارکر ادویات سمیت دیگر اپنی تحویل میں لیکر محکمہ صحت کے اہلکاروں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا تھا جبکہ ان میں سابق ڈی ایچ او ڈاکٹر ریاض حسین سمیت دیگر افسران اور اہلکار موقع سے فرار ہو گئے اور اپنے بچاؤ کی خاطر ہاتھ پاؤں مارنے لگے جن اس وقت ایک مبینہ ملزم بیرون ملک میں موجود ہے جبکہ دیگر ساتھیوں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے محکمہ صحت کی جانب سے ہونیوالی انکوائری رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر ریاض حسین (سابق ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر IRMNCH & NP / DHO P لودھراں)، کاشف مسیح (اسٹور کیپر) اور محمد رمضان (جونیئر اکاؤنٹنٹ) پر سرکاری ادویات میں مبینہ بے ضابطگیاں، ریکارڈ میں ردوبدل اور ادویات کو غیر قانونی طور پر سپلائی کرنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ انکوائری آفیسر نے اپنی رپورٹ میں مرکزی کرداروں کے خلاف ملازمت سے برطرفی جیسی بڑی سزا کی سفارش کی ہے، جس کے بعد ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ نے تینوں اہلکاروں کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔نوٹس میں ملزمان سے 7 روز کے اندر تحریری وضاحت طلب کی گئی ہے جبکہ انہیں 5 مئی 2026 کو لاہور میں ذاتی سماعت کے لیے بھی طلب کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق عدم پیشی کی صورت میں یکطرفہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ مبینہ طور پر سرکاری ادویات کی چوری اور سپلائی کا یہ نیٹ ورک دیگر اضلاع اور صوبوں تک پھیلا ہوا ہے جس کی مزید چھان بین جاری ہے، جبکہ اینٹی کرپشن کی کارروائی کے بعد کیس میں مزید پیش رفت کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ اگر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو یہ معاملہ نہ صرف قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے بلکہ مریضوں کی جانوں سے کھیلنے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں