ملتان( ایجوکیشن رپورٹر)اسلامیہ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلرڈاکٹراطہر محبوب کی غیرقانونی تقرریاں ادارےپر 85 کروڑ سالانہ بوجھ بن گئیں، انکوائری ٹھپ، چانسلررٹ چیلنج ہوکررہ گئی۔ڈاکٹراطہر محبوب سابق وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور نے کس طرح ذاتی مفادات اور بدنیتی پر مبنی عزائم کی تکمیل کے لیے میرٹ اور منصفانہ اصولوں، مالیاتی ضابطوں اور انتظامی دیانتداری کو دبایاجو کہ ایک افسوسناک صورتِ حال ہے۔ ڈاکٹر اطہر محبوب نے بطور وائس چانسلر خواجہ فرید انجینئرنگ یونیورسٹی رحیم یارخان نے چار سالہ مدت کے دوران جس طرح مالی، تعلیمی اور انتظامی نظام کو نقصان پہنچایا،انہیں دوبارہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا وائس چانسلر مقرر کر نا حکومت کا دیدہ دانستہ اقدام ہے۔حالانکہ جب انہیں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کاوائس چانسلر منتخب کیا گیا تھااس وقت اطہر محبوب کےخلاف حکومت کے پاس وافر اور مضبوط شواہد موجود تھے، لیکن اس کے باوجود انہیں دوبارہ وی سی کے عہدے پر فائز کیا ۔ مزید برآں ڈاکٹر اطہر اتنے بے باک ہیں کہ وہ کھلے عام یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے ان کے خلاف وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی حیثیت سے ایک ریفرنس سمری وزیر اعلیٰ کے دفتر کے ذریعے چانسلر کو بھیجی جس میں لکھا تھا کہ ڈاکٹر اطہر محبوب (سابق وائس چانسلر ، KFUEIT رحیم یار خان)، عبدالصمد (سابق خزانچی) حال تعینات ایڈیشنل خزانہ دار آئی یو بی ، بلال ارشاد (سابق رجسٹرار) حال تعینات ایڈیشنل رجسٹرار آئی یو بی وغیرہ کے خلاف سنڈیکیٹ KFUEIT رحیم یار خان کی جانب سے قائم کی جانے والی کمیٹی کی انکوائری رپورٹ کی روشنی میں پرنسپل افسران سمیت تمام کے خلاف مضبوط وجوہات اور ٹھوس شواہد کی موجودگی میں الزامات عائد کرتے ہوئے ایف آئی آر کے اندراج کا حکم دیا جائے۔مگر چانسلر نے اسے تبصرے کے لیےوزیر اعلیٰ پنجاب کے دفتر واپس بھیج دیا۔ ڈاکٹر اطہر محبوب نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا وی سی بننے کے بعد کرپشن کا بازار گرم کرنے کے لئے نت نئے غیر قانونی ہتھکنڈے اپنانا شروع کر دیئے۔ ابتدا میںاسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی سنڈیکیٹ کو لیکچرر کی تقرری کے معیار میں ترمیم/نظرثانی کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔ اس سلسلہ میں ڈاکٹر حسن یا سوب نے لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بنچ بہاولپور میں 25 اکتوبر 2022 کو رٹ پٹیشن نمبر 2098/ 22 دائر کی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ نے اپنی میٹنگ میں 4 جولائی 2020 ایسوسی ایٹ لیکچررز کی عبوری تعیناتی، ایسوسی ایٹ لیکچررز کی اہم ذمہ داریوں، دیگر فرائض، کام کا بوجھ، ملازمت کے طریقہ کار کی منظوری دی۔ اس سلسلہ میں یونیورسٹی نے ایسوسی ایٹ لیکچرار کا اشتہار 19 اگست 2020 کو دیا، اس کے ساتھ ہی یونیورسٹی نے سرکلر نمبر 2032/HRF مورخہ.31-12-2021 کو بھی چیلنج کر دیا۔اسکے رسپانس میں8250 درخواستیں موصول ہوئیں ۔ درخواستوں کی جانچ پڑتال، کمپیوٹر پر مبنی ٹیسٹ اور ملازمت کے انٹرویوز کا انعقادہوا۔یونیورسٹی نے دو سال کے لیے کنٹریکٹ کی بنیاد پر ایسوسی ایٹ لیکچررز کا تقرر کیا۔ دریں اثناسنڈیکیٹ نے 5 اگست 2021 کو اپنے اجلاس میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے قواعد برائے تقرری ایسوسی ایٹ لیکچرر 2021، نظر ثانی شدہ قواعدبھرتی ومعیار ایسوسی ایٹ لیکچرارکی منظوری بھی دی تھی جو کہ صریحا خلاف قانون ہے۔ اس سلسلے میں اسلامیہ یونیورسٹی کے Section 30(1)(b) اور 30(2) کا حوالہ دینا مناسب ہے.اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ایکٹ، 1975، کا سیکشن 30(1)(b) افسران، اساتذہ اور دیگر کی تنخواہوں کے پیمانے اوریونیورسٹی ملازمت اور ملازمین کی دیگر شرائط یونیورسٹی کے ملازمین کو چانسلر کے پاس بھیج دیا جائے گا اور اس وقت تک موثر نہیں ہوگا۔جب تک اس کی منظوری چانسلر نہ دے دے۔ چونکہ افسران، اساتذہ اور اسامیوں کی نامزدگی یونیورسٹی کے دیگر ملازمین یونیورسٹی کے سروس سیچوٹس کا لازمی حصہ ہیں۔سیکشن I1 (5) کے لحاظ سے گورنر/ چانسلر کی طرف سے اس کی منظوری حاصل کرنا اشد ضروری ہے۔ اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور ایکٹ، 1975 کی دفعہ 30(2) کے کردار کو سینیٹ اور یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کو سیکشن کے تحت الگ الگ بیان کیا گیا ہے۔ اس ایکٹ کی 23(a) اور 25(Z,X2) ۔ یہ واضح کرتا ہے کہ سنڈیکیٹ نے جو فیصلے کیے ہیں۔اس کی میٹنگیں مورخہ 4 جولائی 2020 اور S اگست 2021 کو نئے متعارف کرانے سے متعلق ایسوسی ایٹ لیکچرر کا نام اور اس کی ملازمت کی تفصیلات کی منظوری، ملازمت کی تفصیل اور سلیکشن کمیٹی اور لیکچرار کی تقرری کے لیے نظرثانی شدہ معیار کی منظوری واضح طور پر سنڈیکیٹ کے دائرہ اختیار سے باہر تھی۔ بعد ازاں عدالت عالیہ نے اس رٹ پٹیشن کو گورنر پنجاب وچانسلر کو اس معاملہ کو قانون کے تحت ایک ماہ کے اندرنمٹانے کے لئے بھجوا دی۔ ڈاکٹر اطہر محبوب کی انتظامی ٹیم نے ایسوسی ایٹ لیکچرار کی بھرتی کا عمل تیز کر دیا ۔ اور تقریباً 6 ماہ کے قلیل عرصہ میں 312 ایسوسی ایٹ لیکچرار بھرتی کر لئے۔ مبینہ طورپر ایسوسی ایٹ لیکچرار کی بھرتی کی بندر بانٹ50 شعبہ جات میں کی گئی۔ ان میں انٹرنیشنل بزنس مینجمنٹ5،سافٹ ویئر انجینئرنگ6،انجینئرنگ مینجمنٹ 1،آرکیٹیکچر 1،تاریخ3،مطالعہ پاکستان 7،اسپیشل ایجوکیشن 2،ایجوکیشن9،نفسیات 12،اسلامیات 11،ذوآلوجی 4،بشریات2 (Anthropology)،آثارِ قدیمہ 2،فلسفہ 1،سرائیکی1،سوشیالوجی4،بین الاقوامی تجارت 1،مطالعۂ ترجمہ 7،علمِ زراعت (Agronomy) 5،جغرافیہ3،حیاتی کیمیا 4،جنگلات اور جنگلی حیات کا انتظام 4،ماحولیاتی علوم 2،فوڈ ٹیکنالوجی4،پودوں کی افزائش 3،امراضِ نباتات2(Plant Pathology)،علمِ ارضیات (مٹی) 2،شماریات 8،باغبانی 1،حیاتی ٹیکنالوجی 4،علمِ نباتات10 ،کیمیا 8،سماجی خدمت 3،تعلیمی تربیت7،جسمانی تعلیم 3،انگریزی لسانیات 13،انگریزی 17،معاشیات 5،بین الاقوامی تعلقات 3،اردو و اقبالیات8،فائن آرٹس5،انتظامِ عامہ6،سیاسیات 2،طبیعیات 5،میڈیا اسٹڈیز4،ریاضی 19،مینجمنٹ سائنس 26،کمپیوٹر سائنس و آئی ٹی31،بی ایچ ایم ایس 5،بی ای ایم ایس 5تقرریاں عمل میں لائی گئیں۔ ایک محتاط اندازہ کے مطابق سال 2020 نومبر سے جنوری 2021 تک صرف 4خالی اسامیوں کے اشتہار کے عوض 312 تقرریاں عمل میں لائی گئیں۔ ان اسامیوں پر بھرتی ہونے والوں کو ہر سال تقریباً مراعات کے علاوہ تنخواہ کی مد میں 85کروڑ روپے سے زائد رقم خرچ کی جا رہی ہے۔ چانسلر آفس نے اس سلسلہ کی پہلی سماعت26 جولائی 2024 اور دوسری سماعت 02 اگست 2023 کوکی۔دوران سماعت درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے سٹیچوٹس میں ایسوسی ایٹ لیکچرر کی پوسٹ کی کوئی گنجائش نہیں۔ ایسوسی ایٹ لیکچرر کی پوسٹ کی شرائط و ضوابط کا تعین کرنے کا معیار مقرر کرنے کا صرف گورنر/چانسلر کو اختیارات حاصل ہیں۔ لہٰذایہ ایسوسی ایٹ لیکچرار کی تقرریاں بنیادی طور پر ہی غیر قانونی ہیں اور لائق منسوخی ہیں۔ اس دلیل کے بعد ایسوسی ایٹ لیکچرر کا 31 دسمبر 2021 کا سرکلر کالعدم کیا جائے اور منظور شدہ سروس سٹیچوٹس کے مطابق یونیورسٹی میں لیکچرار کی اسامیاں 100 فیصد ابتدائی بھرتی کے ذریعے اوپن میرٹ کے ذریعے پُر کی جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چیف منسٹر انسپکشن ٹیم کی رپورٹ میں پہلے ہی یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ لیکچرر کی اسامیوں پر تقرریاں اوپن میرٹ پر نہیں کی جار ہی ہیں۔اس لئے ان کو غیر قانونی تقرریاں تصور کی جائیں۔ چانسلر نے دونوں فریقین کا مؤقف سننے کے بعد اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ایکٹ 1975 کی دفعہ 11-اے کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے حکم صادر کیا کہ : i۔سنڈیکیٹ کا جولائی 2020 کے اجلاس میں کیا گیا فیصلہ کہ ایسوسی ایٹ لیکچرر کی عبوری تعیناتیاں بنیادی ذمہ داریاں، دیگر فرائض، کام کا بوجھ، ملازمت کی تفصیلات، تقرری کا طریقہ کار اور اسٹینڈنگ سلیکشن کمیٹی کے ذریعے تقرری کا طریقہ، نیز اس عہدے کے لیے مطلوبہ اہلیت وغیرہ، سب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ایکٹ 1975 اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے اساتذہ (تقرری و خصوصی شرائطِ ملازمت) اسٹیچوٹس 1977 کے مطابق نہیں ہیں۔ii. سنڈیکیٹ کا 5 اگست 2021 کے اجلاس میں کیا گیا فیصلہ، جس میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور رولز برائے تقرری ایسوسی ایٹ لیکچرر 2021، ایسوسی ایٹ لیکچرر کی تقرری کے لیے نظرثانی شدہ سلیکشن کمیٹی، اور لیکچرر کی تقرری کے لیے نظرثانی شدہ معیار کی منظوری دی گئی—یہ بھی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ایکٹ 1975 اور اساتذہ (تقرری و خصوصی شرائطِ ملازمت) اسٹیچوٹس 1977 کے مطابق نہیں ہیں۔iii. مورخہ 31 دسمبر 2021 کا سرکلر، جس کے ذریعے حاضر سروس ایسوسی ایٹ لیکچررز سے 174 آسامیوں (BS-18) لیکچررز کی تقرری کے لیے درخواستیں طلب کی گئی تھیں ، جنہیں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے حاضر سروس ایسوسی ایٹ لیکچررز میں سے انتخاب کے ذریعے ہونا تھا—یہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ایکٹ 1975 اور اساتذہ (تقرری و خصوصی شرائطِ ملازمت) اسٹیچیوٹس 1977 کے مطابق ہے۔iv. ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اس معاملے کو ڈائریکٹر جنرل، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے پاس بھیجے تاکہ وہ حاضر سروس ایسوسی ایٹ لیکچررز میں سے ایسوسی ایٹ لیکچررز (BPS-17) اور لیکچررز (BS-18) کی تقرری کے معاملے کی انکوائری کریں اور واضح نتائج اور سفارشات کے ساتھ رپورٹ پیش کریں۔v. وائس چانسلر، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ سنڈیکیٹ کے جولائی 2020 کے فیصلے کے مطابق عہدوں کے نام (مثلاً ایسوسی ایٹ، لیکچرر) میں کسی بھی تبدیلی کے لیے کارروائی شروع کریں،اوراس کے لیے گورنر/چانسلر کی منظوری حاصل کرنا اور (اگر ضروری ہو) یونیورسٹی کے اسٹیچیوٹس میں شامل کرنا لازم ہوگا، جس کے لیے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کےتوسط سے سمری ارسال کی جائے۔اس سلسلہ میں تین سال گزرنے کے باوجود نہ تو حکومت پنجاب کے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے قانونی کارروائی کرنے سے متعلق نہ تو ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن لاہور کو خط لکھا اور نہ ہی اسلامیہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے آج تک اس نوعیت کے غیر قانونی کاموں سے متعلق کسی قسم کی قانونی کارروائی کی۔ ایسا لگتا ہے حکومت پنجاب اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد کامران کے ساتھ ٹھن چکی ہے اور دونوں عہد کر چکے ہیں کہ اطہر محبوب اور اس کے ساتھیوں کے خلاف کسی قسم کی کوئی قانونی کارروائی نہیں کرنی۔







