اسرائیل میں آئندہ عام انتخابات سے قبل اہم سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں سابق وزرائے اعظم نافتالی بینیٹ اور یائر لاپڈ نے موجودہ وزیر اعظم نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے ایک نیا اتحاد قائم کر لیا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ وہ آئندہ انتخابات میں “ٹوگیدر” کے نام سے نئی سیاسی جماعت کے ساتھ حصہ لیں گے۔ اس اتحاد کا مقصد تقسیم شدہ اپوزیشن کو یکجا کرنا اور انتخابی میدان میں مضبوط پوزیشن حاصل کرنا ہے۔
نافتالی بینیٹ نے اس اقدام کو ملک کے مفاد میں ایک اہم اور ذمہ دارانہ فیصلہ قرار دیا، جبکہ یائر لاپڈ نے بینیٹ کو قابل اعتماد اور دیانتدار سیاسی شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں کے درمیان مکمل اعتماد قائم ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ سیاسی اتحاد اپوزیشن کے اندرونی اختلافات کو ختم کرنے اور انتخابی مہم کو مزید مؤثر بنانے کی کوشش ہے۔ بینیٹ نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اگر ان کی حکومت بنتی ہے تو 7 اکتوبر 2023 کے واقعات اور سیکیورٹی ناکامیوں کی تحقیقات کے لیے ایک قومی کمیشن قائم کیا جائے گا، جسے موجودہ حکومت نے مسترد کیا تھا۔
یاد رہے کہ دونوں رہنما پہلے بھی 2021 میں اتحاد بنا کر نیتن یاہو کی طویل حکمرانی کا خاتمہ کر چکے ہیں، تاہم ان کی مخلوط حکومت زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ سروے نتائج میں نیتن یاہو کی مقبولیت میں کمی دیکھی جا رہی ہے، اور آئندہ انتخابات میں سخت اور دلچسپ مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔







