خاتون ٹیچر ریحانہ اختر قتل کیس: پولیس تشدد سے بھائی کی موت ہوئی: مقتول کے بھائی کا الزام

خاتون ٹیچر ریحانہ اختر قتل کیس مقدمہ کے مرکزی ملزم کانسٹیبل زاہد سکھیرا کی پولیس حراست میں موت نیا رخ اختیار کرگئی۔ مقتول کے بھائی نے پولیس پر الزام عائد کیا کہ پولیس تشدد سے میرے بھائی کی موت ہوئی۔سندھ ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت حاصل کرکے مقتول اپنی بے گناہی ثابت کرنے آیا تھا۔جیسے انصاف کی جگہ موت ملی ،خاتون سرکاری ٹیچر کے قتل کے الزام میں گرفتار پولیس اہلکار زاہد سکھیرا کی پولیس حراست میں موت نے نیا رخ اختیار کر لیا۔مقتول کے بھائی شاہد اسحاق سکھیرا ایڈووکیٹ نے اسپتال میں اپنے بھائی کی میت وصول کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قتل اور اغواء کے واقعات کے دوران میرا بھائی کراچی میں زیر علاج تھامیرے بھائی کی موت پولیس تشدد سے ہوئی ۔قانونی کاروائی کریں گے۔میرا بھائی سندھ ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت حاصل کرکے اپنی بے گناہی ثابت کرنے آیاتھا۔میرے بھائی کے خلاف ایک مدعی عمردراز کی مدعیت میں دو جھوٹے مقدمے درج کئے گئے۔پولیس کا کہنا ہے کہ اہلکار کی ہلاکت ہارٹ اٹیک کے باعث ہوئی ہے۔جاں بحق کانسٹیبل زاہد پر خاتون ٹیچر کو اغواء کرکے قتل کرنے اور لاش جلانے کا الزام تھا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں