چیئرمین شعبہ سرائیکی جامعہ اسلامیہ کا مخالف وکیل پر حملہ، وکلا کا احتجاج

بہاولپور ( کرائم سیل)اسلامیہ یونیورسٹی شعبہ سرائیکی کے چیئرمین ڈاکٹر ممتاز خان کا دیگر مسلح افراد کے ہمراہ مخالف وکیل پر حملہ۔سمہ سٹہ پولیس نے مقدمہ درج کرکے کاروائی کا آغاز کردیا۔وکلاء برادری کا شدید احتجاج ،سخت کاروائی کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق محمد ممتاز خان بلوچ نے اپنے قریبی رشتہ داروں اور درجنوں مسلح افراد کے ہمراہ ایک مخالف وکیل پر حملہ کیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق مقدمہ میں نامزد ملزمان میں ممتاز خان کے بھائی شاہد خان، سمدھی غلام نازک، بیٹے محمد عمران، محمد عامر، فرحان، بھتیجے محمد یوسف، محمد یونس، انور سمیت 30 سے 35 نامعلوم افراد شامل ہیں۔عینی شاہدین اور سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق ملزمان ڈنڈوں اور اینٹوں سے مسلح تھے۔ فوٹیج میں مبینہ طور پر ممتاز خان کو خود بھی حملے میں حصہ لیتے دیکھا جا سکتا ہے، جہاں وہ مخالف وکیل پر متعدد وار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔مزید یہ کہ واقعہ کے دوران بعض ملزمان نے سی سی ٹی وی کیمرے توڑ کر شواہد مٹانے کی کوشش بھی کی، تاہم بیشتر کارروائی کیمرے میں محفوظ ہو چکی ہے اور پولیس کو موصول ہو گئی ہے۔ذرائع کے مطابق اس واقعہ کی بنیادی وجہ مقامی غریب افراد کی وراثتی زمین پر مبینہ ناجائز قبضہ بتائی جا رہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ملزمان کافی عرصے سے زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے تھےاور ناکامی پر انہوں نے مخالف وکیل کو نشانہ بنایا۔پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ادھر تعلیمی، سماجی اور سیاسی حلقوں میں اس واقعہ پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ انہوں نے حکومت پنجاب اور یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ محمد ممتاز خان کو فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جائے۔شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں