ملتان (وقائع نگار)فاٹا کے نام پر سمگلنگ کی بڑی کارروائی، پنجاب میں اربوں روپے کا سامان ضبط، مالکان ابھی تک سامنے نہیں آئے پاکستان کسٹمز نے گزشتہ تین ماہ کے دوران فاٹا کے نام پر منگوائے جانے والے متعدد کنٹینرز کو پنجاب میں داخل ہوتے ہی پکڑ لیا ہے۔ اس کارروائی میں الیکٹرانکس، چائے کی پتی، کپڑے اور دیگر اشیاء سمیت اربوں روپے مالیت کا سامان ضبط کر لیا گیا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اب تک ضبط شدہ سامان کا کوئی مالک سامنے نہیں آیا اور ملکیت کا دعویٰ بھی نہیں کیا گیا۔ذرائع کے مطابق، کلکٹر کسٹم راولپنڈی رضوان صلابت نے فاٹا کے نام پر منگوائے گئے الیکٹرانکس، چائے کی پتی اور کپڑے کے متعدد کنٹینرز پکڑے ہیں۔ گزشتہ تین ماہ میں انہوں نے 24 کیس درج کر کے اربوں روپے مالیت کا سامان ضبط کیا ہے۔ اسی طرح کلکٹر کسٹم لاہور آغا سعید نے بھی کروڑوں روپے مالیت کے کپڑے سمیت دیگر اشیاء کے 12 کیس درج کیے ہیں۔یہ تمام کنٹینرز فاٹا کے نام سے منگوائے جا رہے تھے، جو سمگلنگ کے لیے ایک عام حربہ سمجھا جاتا ہے۔ فاٹا کے علاقوں میں کسٹم ڈیوٹی کی چھوٹ یا مخصوص استثنیٰ کا فائدہ اٹھا کر یہ سامان پنجاب اور دیگر صوبوں میں پہنچانے کی کوشش کی جا رہی تھی، لیکن کسٹمز کی سخت نگرانی اور انٹیلی جنس کی بدولت یہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ضبط شدہ سامان کی مالیت اربوں روپے میں ہے، جس میں جدید الیکٹرانک آلات، اعلیٰ معیار کی چائے کی پتی اور مختلف قسم کے کپڑے شامل ہیں۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ اب تک کسی تاجر یا درآمد کنندہ نے اس سامان کی ملکیت کا دعویٰ نہیں کیا۔ عام طور پر ایسے کیسوں میں مالکان عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں یا اپیل کرتے ہیں، لیکن اس بار خاموشی ہے۔کسٹمز حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی خفیہ اداروں کی انٹیلی جنس اور فیلڈ ٹیموں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ رضوان صلابت اور آغا سعید سمیت متعلقہ افسران نے سمگلنگ کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی کے تحت سخت کارروائی کی ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ فاٹا کے نام پر سمگلنگ کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ سابقہ قبائلی علاقوں میں کسٹم ریگولیشنز میں کچھ نرمی یا استثنیٰ کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تاہم، کسٹمز نے اب اس راستے کو بھی سخت نگرانی میں لے لیا ہے۔فی الحال ضبط شدہ سامان کو کسٹمز کے گوداموں میں محفوظ کر لیا گیا ہے۔ مزید تفتیش جاری ہے اور اگر مالکان سامنے نہیں آئے تو سامان نیلامی کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے۔







