پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاہدے کے تحت حکومتی اداروں کے تقریباً 70 بینک اکاؤنٹس بند کرنے اور ان میں موجود تقریباً 300 ارب روپے قومی خزانے میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد سرکاری مالی وسائل کو یکجا کرنا اور قرضوں کے بوجھ میں کمی لانا بتایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت گزشتہ ماہ طے پانے والے اسٹاف لیول معاہدے کا حصہ ہے، اس سے قبل بھی 242 اکاؤنٹس بند کرکے تقریباً 200 ارب روپے ٹریژری سنگل اکاؤنٹ میں منتقل کیے جا چکے ہیں۔
وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق مجموعی طور پر مزید تقریباً 250 نان سیونگ اکاؤنٹس بند کرنے کی منصوبہ بندی جاری ہے، جن میں تقریباً 400 ارب روپے موجود ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں وزارتوں اور ان سے منسلک اداروں کے 70 اکاؤنٹس بند کیے جائیں گے۔
آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ مختلف سرکاری ادارے نجی بینکوں میں رقوم رکھ کر منافع حاصل کرتے ہیں، جبکہ بعد میں یہی رقم حکومت کو زیادہ شرح سود پر قرض دی جاتی ہے۔ تاہم وزارت خزانہ نے خودمختار اداروں کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مکمل پابندی ان کی مالی خودمختاری کو متاثر کر سکتی ہے۔
دوسرے مرحلے میں وزارتیں اور ڈویژنز اپنے سیونگ اکاؤنٹس بھی بند کریں گے، جبکہ خودمختار اداروں کو جزوی استثنا دیے جانے کا امکان ہے، خصوصاً وہ ادارے جو وفاقی بجٹ سے فنڈنگ نہیں لیتے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ تقریباً 200 سرکاری ادارے اور ریگولیٹری باڈیز ایک کھرب روپے سے زائد رقوم نجی اکاؤنٹس میں رکھے ہوئے ہیں، جو پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 کی خلاف ورزی ہے۔
حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ جون 2027 تک مقامی قرضوں کی اوسط مدت چار سال دو ماہ تک بڑھا دی جائے گی تاکہ ری فنانسنگ کے خطرات کم کیے جا سکیں۔ اس سے قبل یہ مدت پروگرام کے آغاز پر تقریباً ڈھائی سال تھی جو اب بڑھ کر ساڑھے تین سال کے قریب ہو چکی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت مقامی قرضوں کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے، سرمایہ کاروں کا دائرہ وسیع کرنے اور اسٹیٹ بینک کے پاس موجود قرض کو مرحلہ وار کم کرنے کے اقدامات بھی جاری رکھے گی۔







