بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر) ریلوے ملتان ڈویژن کے کمرشل ڈیپارٹمنٹ میں سامنے آنے والے آن لائن ٹکٹ کرپشن سکینڈل نے نہ صرف ادارے کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا بلکہ انصاف کے تقاضے بھی پورے نہ ہو سکے۔ دستیاب دستاویزات اور تفصیلات کے مطابق متعدد ملازمین کے خلاف کرپشن کے واضح ثبوت اور شواہد موجود ہونے کے باوجود یکساں اور شفاف کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی، جس سے ادارے کے اندر احتساب کے نظام پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق جن ملازمین کے خلاف مبینہ کرپشن ثابت شدہ ہے ان سے رقوم کی ریکوری کا عمل بھی جاری ہےتاہم حیران کن طور پر انہیں بدستور ڈیوٹی جاری رکھنے کی اجازت دی گئی۔ جاری کردہ تفصیلات کے مطابق محمد احسن ایل آر ایس ٹی ای سے 6,94,316 روپے، محمد لطیف ایس ٹی ای کے ڈبلیو ایل سے 1,29,948 روپے، محمد عاصم ایس ٹی ای سے 1,02,025 روپے، توقیر عابد آر ایس ٹی ای سے 1,00,541 روپے، صابر علی ایس ٹی ای کے ڈبلیو ایل سے 99,645 روپے، ذوالفقار احمد آئی آر ایس ٹی ای سے 70,854 روپے، محمد اقبال ایل آر ایس ٹی ای سے 59,824 روپے، محمد ندیم چوہدری ایس ٹی ای سے 58,824 روپے، محمد زبیر آئی آر ایس ٹی ای سے 50,961 روپے، فیاض احمد جی آئی ایس ٹی ای سے 43,842 روپے، کمر اقبال ایس ٹی ای سے 43,680 روپے، عمران فاروق ایس ٹی ای سے 43,320 روپے، شہباز رحمت آر ایس ٹی ای سے 34,951 روپے، طاہر شبیر ایل آر ایس ٹی ای سے 33,166 روپے، محمد فضیل رانا ایل آر ایس ٹی ای سے 30,970 روپے، سرفراز منیر ایس ٹی ای سے 29,200 روپے، محمد الطاف ایس ٹی ای سے 26,586 روپے، محمد وقاص ایس ٹی ای کے ڈبلیو سے 25,858 روپے، محمد الیاس انصاری ایس پی ای سے 24,363 روپے، محمد یوسف آئی آر ایس پی ای سے 21,700 روپے، مختیار احمد ایس ٹی ای سے 19,327 روپے، وسیم اکرم آر ایس پی ای سے 17,500 روپے، محمد عمران خان آئی آر ایس ٹی ای سے 15,016 روپے، خرم عطا ایس ٹی ای سے 10,871 روپے، رانا جاوید اقبال ایس ٹی ای سے 5,320 روپے سمیت دیگر اہلکاروں کے نام بھی شامل ہیں۔دستاویزات کے مطابق 24 مارچ 2026 کو جاری کردہ لسٹ میں کل 37 اہلکاروں کے خلاف ریکوری کے احکامات دیے گئے تھے اور ہدایت کی گئی تھی کہ تمام تصدیق شدہ رقوم سات دن کے اندر جمع کروائی جائیں۔ یہ مراسلہ ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ پاکستان ریلوے ملتان کی منظوری سے جاری کیا گیا تھا، جس سے اس معاملے کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔تاہم اس کے بعد کی پیش رفت نے کئی سوالات کو جنم دیا۔ 10 مارچ 2026 کو محمد احسن کو ڈی سی او کی جانب سے شوکاز نوٹس جاری کیا گیاجبکہ دیگر 36 اہلکاروں کے خلاف کوئی واضح کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ مزید برآں، 2 اپریل 2026 کو جاری لیٹر نمبر C-12/01-26-S کے تحت ڈی پی او ملتان نے محمد احسن کو ملازمت سے فارغ کر دیامگر باقی تمام اہلکار بدستور اپنے عہدوں پر کام کرتے رہے۔اس غیر مساوی کارروائی نے ادارے کے اندر شفافیت اور انصاف کے فقدان کو نمایاں کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب ایک ہی نوعیت کے الزامات میں ملوث افراد کے ساتھ مختلف رویہ اختیار کیا جائے تو اس سے نہ صرف ادارے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ قانونی پیچیدگیاں بھی جنم لیتی ہیں۔ اگر واقعی تمام 37 اہلکاروں کے خلاف ثبوت موجود ہیں تو قانون کے مطابق یکساں اور منصفانہ کارروائی ناگزیر ہے۔ادارے کے اندرونی حلقوں اور عوامی سطح پر یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ اس اسکینڈل کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں، تمام ملوث افراد کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ہو، اور ذمہ داران کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ریلوے ترجمان کے مطابق ادارے میں خود احتسابی کا عمل جاری ہے اور مناسب کارروائی کی جا رہی ہے۔
Pakistan Railways corruption, Multan division railway scandal, online ticket fraud Pakistan,







