فیصل آباد یونیورسٹی کیس، عالمی سائنسدان کا مضبوط موقف، انتظامی نااہلی کا پول کھول دیا

ملتان (سٹاف رپورٹر) عالمی سطح پر جاری تنازع میں معروف سائنسدان ڈی وان سن( Da-Wen Sun )نے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے ایک اور واضح اور دوٹوک بیان جاری کر دیا ہے جس نے زرعی یونیورسٹی فیصل آبادکی انتظامیہ کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اپنے تازہ ردعمل میں پروفیسر ڈی وان سن نے اس تاثر کو یکسر مسترد کر دیا کہ معاملہ محض’’انتظامی تاخیر‘‘ کا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اصل مسئلہ تاخیر نہیں بلکہ بار بار کی گئی باضابطہ رابطہ کاری کے باوجود مکمل خاموشی اور جواب نہ ملنا ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی بھی ادارے میں ادائیگی یا انتظامی عمل میں تاخیر ہو بھی جائے تو کم از کم بنیادی سطح کی پیشہ ورانہ کمیونیکیشن برقرار رہنی چاہیےجو اس کیس میں مکمل طور پر غائب رہی۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ معاملہ انہوں نے محض ایک’’حقیقی تجربے کے ریکارڈ‘‘کے طور پر پیش کیا ہے تاکہ دیگر بین الاقوامی ماہرین اس سے آگاہ رہیں۔ تاہم ان کے اس محتاط مگر معنی خیز بیان کو تعلیمی حلقے ایک سخت اور بالواسطہ تنقید کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پروفیسر سن کا یہ مؤقف اس بات کو مزید تقویت دیتا ہے کہ مسئلہ وقتی یا تکنیکی نہیں بلکہ ادارہ جاتی رویوں اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں سنجیدگی کے فقدان کا ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب ہائرایجوکیشن کمیشن اس معاملے کا نوٹس لے چکی ہے یہ بیان تحقیقات کے لیے ایک اہم بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ دوسری جانب تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کی جانب سے پیش کی گئی وضاحتیں اب کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہیںکیونکہ اگر واقعی معاملات زیرِ کارروائی تھے تو کم از کم رسمی جواب یا وضاحت فراہم نہ کرنا ایک ناقابلِ فہم طرزِ عمل ہے۔ یوں یہ معاملہ اب مزید پیچیدہ اور حساس ہو چکا ہےجہاں ایک طرف عالمی شہرت یافتہ سائنسدان کا مؤقف مسلسل واضح اور مضبوط ہو رہا ہے، تو دوسری طرف متعلقہ اداروں کی ساکھ اور کارکردگی پر اٹھنے والے سوالات بھی مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف ایک ادارے بلکہ پورے تعلیمی نظام کے لیے ایک سنجیدہ امتحان بنتی جا رہی ہے۔ مزید یہ کہ وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ڈاکٹر ذوالفقار علی کی اس وضاحت نے کئی بنیادی سوالات کو جنم دیا ہے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر معاملہ واقعی زیرِ کارروائی تھا تو ایک عالمی شہرت یافتہ محقق کو مسلسل دو ماہ تک ’’مکمل خاموشی‘‘کا سامنا کیوں کرنا پڑا؟ مزید برآںوائس چانسلر کی جانب سے متبادل ادائیگی چینلز (جیسے ویسٹرن یونین) کی تجویز دینا بھی ماہرین کے نزدیک ایک غیر روایتی اور غیر سنجیدہ طرزِ عمل قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ بین الاقوامی تعلیمی ادائیگیاں عموماً باقاعدہ اور شفاف مالیاتی نظام کے تحت کی جاتی ہیں۔ تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ ردعمل دراصل مسئلے کی جڑ کو تسلیم کرنے کے بجائے اسے بیوروکریٹک پیچیدگیوں کے پیچھے چھپانے کی کوشش ہے۔ اگر واقعی فنڈز یا فارن ایکسچینج کا مسئلہ درپیش تھا تو کیا اس بارے میں بروقت اور واضح کمیونیکیشن نہیں کی جانی چاہیے تھی؟ اور کیا ایک عالمی معیار کے ادارے کے لیے یہ مناسب ہے کہ وہ بین الاقوامی ماہرین کو ادائیگی کے لیے غیر رسمی ذرائع تجویز کرے؟ مگر تعلیمی ماہرین کے مطابق یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب معاملہ عالمی سطح پر اجاگر ہو چکا ہے۔ سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ اگر یہ معاملہ سوشل میڈیا اور پیشہ ورانہ پلیٹ فارم پر نہ آتا تو کیا یہ ’’تحقیقات‘‘بھی شروع ہوتیں؟ تعلیمی حلقوں میں اس پورے معاملے کو پاکستان کی جامعات کے لیے ایک وارننگ سائن قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک طرف عالمی معیار کے سائنسدانوں کو مدعو کرنا اور دوسری طرف ان کے ساتھ بنیادی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں ناکامی یہ تضاد نہ صرف ادارہ جاتی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے بلکہ مستقبل میں بین الاقوامی تعاون کے دروازے بھی بند کر سکتا ہے۔ یوں یہ معاملہ اب محض ایک ادائیگی کا تنازع نہیں رہا، بلکہ یہ پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام میں شفافیت، جوابدہی اور پیشہ ورانہ سنجیدگی کے فقدان کی ایک واضح مثال بنتا جا رہا ہےجس کا بروقت اور سنجیدہ حل نہ نکالا گیا تو اس کے اثرات دیرپا ہو سکتے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں