ملتان ( میاں غفار سے)پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی کپاس کی فصل آج جس بحران کا شکار ہے، وہ محض موسمی تبدیلیوں یا بیج کی خرابی کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک بنے بنائے مضبوط تحقیقی ڈھانچے کے ٹوٹنے اور بکھرنے کی کہانی ہے۔ وہ ملک جو نوے کی دہائی اور دو ہزار کے اوائل میں کپاس کی ریکارڈ پیداوار کے ساتھ دنیا میں اپنی دھاک بٹھا چکا تھا، آج تحقیق اور عملدرآمد کے درمیان کھڑی اس خلیج سے نبردآزما ہے جسے چند بیرونی بااثر عناصر کے مفادات اور تحقیقی اداروں میں مداخلت نے جنم دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم کپاس کی بحالی کے لیے کسی معجزے کے منتظر ہیں، یا اس قومی ریسرچ ڈھانچے کی واپسی کے، جسے سوچی سمجھی حکمتِ عملی کے تحت ناکارہ بنایا گیا؟پاکستان کی کپاس کی تاریخ میں ریکارڈ پیداوار کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ یہ اس وقت کے مضبوط قومی ریسرچ ڈھانچے، خصوصاً پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی (پی سی سی سی) اور چاروں صوبوں میں موجود اس کے زیرِ انتظام اداروں کی مربوط تحقیق، بہتر اقسام، اور منظم زرعی پالیسیوں کا واضح ثمر تھی۔ یہی وہ دور تھا جب پاکستان نے کپاس کی پیداوار میں تاریخی سنگِ میل عبور کیے اور نوے کی دہائی میں 13ملین گانٹھیں، 2004 میں 14.8 ملین گانٹھیں، اور 2014 میں 13.9 ملین گانٹھیں جیسی ریکارڈ پیداوار حاصل کیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مربوط قومی تحقیق اور اداروں کی ہم آہنگی پیداوار میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔تاہم آج کے دور میں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف درجنوں نجی بیج کمپنیاں، ملٹی نیشنل ادارے، یونیورسٹیاں، صوبائی زرعی ادارے اور مختلف تحقیقاتی مراکز کپاس کے شعبے میں سرگرم ہیں، اور مالی و تکنیکی وسائل بھی نسبتاً زیادہ دستیاب ہیں، لیکن اس کے باوجود کپاس کی مجموعی پیداوار میں مسلسل تنزلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ یہ ایک اہم سوال کو جنم دیتا ہے کہ جب اداروں کی تعداد، سرمایہ کاری اور تکنیکی شمولیت پہلے سے کہیں زیادہ ہے تو پیداوار میں بہتری کیوں نہیں آ رہی۔اس پس منظر میں یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی آج بھی کپاس کے پورے تحقیقی نظام کے لیے ایک مرکزی ہم آہنگی اور تکنیکی رہنمائی کا کردار ادا کرتی ہے، تاہم محدود وسائل، کمزور بجٹ اور بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کے باعث اس کا اثر اس سطح تک نہیں پہنچ پا رہا جو ماضی میں دیکھا گیا تھا۔ اس کے ساتھ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ بعض پالیسی فیصلوں، ادارے کی مالی و انتظامی کمزوریوں اور تبدیلیوں نے اس نظام کو مزید متاثر کیا۔اسی تناظر میں یہ مؤقف بھی سامنے آتا ہے کہ پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی جیسے قومی ادارے کو مختلف مفادات رکھنے والے بیرونی بااثر عناصر کی مداخلت اور اثرو رسوخ کے باعث کمزور کیا گیا۔ پی سی سی سی جیسے قومی ادارے کو مخصوص ذاتی مفاد پرست ٹولے نے کپاس کے میدان میں اپنی چودھراہٹ قائم کرنے، اپنی ناموری و شہرت اور سیڈ مالکان سے گٹھ جوڑ کرکے پی سی سی سی کو آہستہ آہستہ ناکام اور ناکارہ بنانے کی کوشش کی۔ پی سی سی سی کے ہمدرد بڑے اسٹیک ہولڈرز کو ادارے سے بدظن کیا گیا، پی سی سی سی کے کاٹن پراجیکٹ فنڈز کو انتہائی محدود کیا گیا، اس میں رکاوٹیں ڈالی گئیں اور پی سی سی سی میں تین دہائیوں سے زائد ہونے والے کاٹن سیزن کے دوران کاٹن کراپ مینجمنٹ گروپ کے ہر پندرہ روزہ اجلاس جو سی سی آر آئی ملتان میں ہوتے تھے انہیں یہاں سے ختم کرایا گیا۔ اسی طرح اب کپاس کے قومی ٹرائلز کے پی سی سی سی کے اختیارات سے بھی محروم کر دیا گیا ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں پی سی سی سی کمزور کی گئی جس سے کپاس متاثر ہوئی، اور یہی عناصر کپاس کی بربادی کے ذمہ دار ہیں جو اپنے اثر و رسوخ سے سسٹم کی خرابیوں کے ذمہ دار ہیں۔اسی سلسلے میں ایک اور پہلو بھی سامنے آتا ہے کہ ماضی میں بعض تحقیقی اداروں سے جرم پلازم کے غیر رسمی یا غیر منظم تبادلے اور رسائی کے معاملات بھی سامنے آتے رہے۔ اسی ماحول میں بعض سیڈ کمپنیوں کے مالکان، جو کبھی انہی کاٹن ریسرچ اداروں میں رہنمائی اور تربیت کے لیے نہایت احترام اور جھکے ہوئے انداز میں حاضر ہوا کرتے تھے، وقت کے ساتھ اسی علم، ٹیکنالوجی اور تجربے سے فائدہ اٹھا کر نجی شعبے میں اپنی اپنی دکانیں سجا بیٹھے۔ یہ وہی عمل تھا جس میں علم اور تحقیق کا تسلسل ایک اجتماعی نظام سے نکل کر تجارتی دائرے میں منتقل ہوتا گیا، اور بالواسطہ طور پر اسی ادارہ کی کمزوری میں اضافہ ہوا جس کا آج پورا نظام شکار ہے۔مزید یہ کہ قومی کپاس پراجیکٹس کے لیے مختص فنڈز کو بتدریج محدود کیا گیا، جس کے نتیجے میں تحقیق، تجربات اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کا دائرہ سکڑتا چلا گیا۔ ان عوامل کے نتیجے میں پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کا کپاس کے میدان میں کردار کمزور پڑتا گیا، اور کپاس کی تحقیق و ترقی کا وہ مربوط نظام متاثر ہوا جو کبھی ملک میں پیداوار کے استحکام کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔ نتیجتاً کپاس کی مجموعی پیداوار میں کمی اور سسٹم کا بگاڑ سامنے آیا، جس کی ذمہ داری کسی ایک ادارے پر ڈالنا نہ تو مکمل طور پر درست ہے اور نہ ہی حقیقت پر مبنی۔اصل مسئلہ اداروں کی کمی نہیں بلکہ ان کے درمیان مربوط حکمتِ عملی، تحقیق کے تسلسل، بیج کے معیار، اور پالیسی کے تسلسل کا فقدان ہے۔ اسی لیے کپاس کی بحالی کے لیے کسی ایک ادارے کو موردالزام ٹھہرانے کی بجائے پورے نظام کو ایک منظم، شفاف اور مربوط قومی حکمتِ عملی کے تحت ہم آہنگ کرنا وقت کی بنیادی ضرورت ہے۔
PAKISTAN CENTRAL COTTON COMMITTEE







