نشتر ہسپتال، 4سال سے ادویات چوری کرنیوالاگینگ پکڑا گیا، انکوائری شروع

ملتان (وقائع نگار)نشتر ہسپتال ملتان میں ادویات چوری سکینڈل، چار سال سے چل رہا گینگ پکڑا گیا۔ ایم ایس نے انکوائری کا حکم دے دیا ۔ ڈائریکٹرایمرجنسی ڈاکٹر محمد زاہد انکوائری آفیسر مقرر ،نشتر ہسپتال ملتان میں چند روز قبل ایک خاتون نورین کو ادویات چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گیا تھا ،تفتیش کے دوران اس نے انکشاف کیا کہ وہ ڈسپنسر محمد فاروق اور وارڈ بوائے کاشف رفیق کے ساتھ مل کر گزشتہ چار سالوں سے ہسپتال کی ادویات چوری کر رہی تھی۔ذرائع کے مطابق نورین نے پکڑے جانے کے بعد اعتراف کیا کہ تینوں ملزمان باہمی ملی بھگت سے مریضوں کی ادویات چوری کرکے باہر فروخت کرتے تھے۔ اس سکینڈل کی نوعیت سنگین ہے کیونکہ یہ طویل عرصے سے جاری تھا اور غریب مریضوں کی دوائیوں سے کھیلا جا رہا تھا۔اس افسوسناک واقعے پر نشتر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) ڈاکٹر راؤ امجد علی نے فوری ایکشن لیتے ہوئےڈائریکٹرایمرجنسی ڈاکٹر محمد زاہد کو انکوائری آفیسر مقرر کر دیا ہے۔ انکوائری میں تمام حقائق سامنے لانے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی سفارشات کی جائیں گی۔ڈاکٹر راؤ امجد علی نے کہا ہے کہ ہسپتال انتظامیہ مریضوں کی سہولیات اور ادویات کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا چوری برداشت نہیں کی جائے گی۔ انکوائری رپورٹ آنے کے بعد ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں