کہتے ہیں جنگ کبھی ایک دن میں نہیں پھوٹتی، وہ خاموشی سے پلتی ہےجیسے کسی دریا کے کنارے دراڑ آہستہ آہستہ گہری ہوتی جاتی ہے۔ برسوں سے دنیا میں ایک جملہ گردش کر رہا تھا کہ تیسری عالمی جنگ پانی پر ہوگی۔ یہ بات ماہرین، دانشوروں اور عالمی اداروں کے تجزیوں میں بار بار دہرائی گئی۔ اس کا مطلب یہی لیا جاتا رہا کہ جب پانی کم ہوگا تو انسان ایک دوسرے کا گلا کاٹے گا، سرحدیں دریاؤں کے کنارے طے ہوں گی اور پیاس جنگ کو جنم دے گی مگر آج جو منظر مشرق وسطیٰ میں بن رہا ہے، وہ اس پیشگوئی کو ایک نئے رخ پر لے آیا ہے۔
آبنائے ہرمز کے پانی اس وقت دنیا کی سب سے بڑی بے چینی کا مرکز بن چکے ہیں۔ ایران نے اس اہم سمندری گزرگاہ کو بند کر دیا ہے اور جواب میں امریکانے ناکہ بندی کر کے طاقت کا اظہار کیا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے دنیا کے تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ یہاں سے گزرنے والے جہاز صرف تیل نہیں لے کر جاتے بلکہ دنیا کی معیشت کی سانسیں اپنے ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ اب جب یہ راستہ بند ہوا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے دنیا کی نبض تھم سی گئی ہو۔
چین نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر لڑائی کا دائرہ مزید پھیلا تو صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔ یہ بیان محض سفارتی جملہ نہیں بلکہ ایک گہری تشویش کا اظہار ہے۔ چین جو خود عالمی معیشت کا بڑا کھلاڑی ہے، جانتا ہے کہ توانائی کی سپلائی میں خلل پوری دنیا کو ہلا سکتا ہے۔ روس بھی خاموشی سے اس منظر کو دیکھ رہا ہے اس کی خاموشی میں بھی کئی اشارے چھپے ہیں۔ نیٹو ممالک امریکا کے ساتھ کھڑے ہیں اور یوں دنیا ایک بار پھر بلاکس میں بٹتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔
اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹیں تو پہلی عالمی جنگ ایک بظاہر چھوٹے واقعے سے شروع ہوئی مگر اس کے پیچھے طاقت، اتحاد اور مفادات کی طویل کشمکش تھی۔ دوسری عالمی جنگ میں طاقت کے نشے اور توسیع پسندی نے دنیا کو آگ میں جھونک دیا ۔پہلی عالمی جنگ (1914-1918) سلطنتوں کے ٹکراؤ، قوم پرستی کے جنون اور سرحدوں کی نئی تقسیم کیلئے لڑی گئی۔ دوسری عالمی جنگ (1939-1945) فاشزم، نازی نظریے اور توسیع پسندی کے خلاف تھی۔مگر آج کی صورتحال مختلف ہے۔ یہ جنگ زمین کے کسی ایک ٹکڑے پر قبضے کی نہیں بلکہ راستوں پر کنٹرول کی جنگ بنتی جا رہی ہے۔ سمندری گزرگاہیں، تیل کے ذخائر اور توانائی کی ترسیل اب نئے میدان جنگ ہیں۔
پانی پر جنگ کا تصور نیا نہیں۔ دنیا کے کئی ماہرین نے دہائیوں پہلے خبردار کیا تھا کہ آنے والے وقتوں میں پانی سب سے قیمتی وسیلہ بن جائے گا۔ اس کی وجہ صاف تھی۔ آبادی بڑھ رہی ہے، وسائل کم ہو رہے ہیں اور ماحولیاتی تبدیلیوں نے پانی کے ذخائر کو متاثر کیا ہے۔ اسی لیے یہ کہا گیا کہ ایک دن ممالک پانی کے لیے لڑیں گے۔ مگر آج جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اس پیشگوئی کی ایک مختلف تعبیر ہے۔ یہ پانی خود جنگ کا سبب نہیں بلکہ وہ راستہ ہے جس پر چل کر تیل دنیا تک پہنچتا ہے۔
آبنائے ہرمز اس وقت دنیا کی معیشت کا دل بن چکی ہے۔ اگر یہ بند ہو جائے تو صرف تیل کی قیمتیں نہیں بڑھتیںبلکہ پوری عالمی سپلائی چین متاثر ہوتی ہے۔ فیکٹریاں بند ہوتی ہیں، ٹرانسپورٹ رکتی ہے اور عام آدمی کی زندگی مہنگائی کے بوجھ تلے دب جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ایک گزرگاہ کی بندش نے دنیا بھر میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔
ایران کی پوزیشن اس وقت ایک ایسے ملک کی ہے جو خود کو گھرا ہوا محسوس کرتا ہے اور اپنے دفاع میں سخت اقدامات کررہاہے۔دوسری جانب امریکاا پنی عالمی طاقت اور مفادات کے تحفظ کے لیے میدان میں ہے۔ نیٹو ممالک اس کے ساتھ کھڑے ہیں جبکہ چین ثالثی کی بات کر رہا ہے اور روس حالات کو اپنے مفاد کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔ یہ سب مل کر ایک ایسا منظر بناتے ہیں جہاں ایک چنگاری بھی بڑی آگ کا سبب بن سکتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا دنیا واقعی تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس کا جواب آسان نہیں۔ تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ بڑی جنگیں اکثر غلط اندازوں، ضد اور طاقت کے زعم سے جنم لیتی ہیں۔ آج بھی کچھ ایسا ہی خطرہ موجود ہے۔ اگر سفارت کاری ناکام ہو گئی اور طاقت کا استعمال بڑھتا گیا تو یہ کشیدگی ایک بڑے تصادم میں بدل سکتی ہے۔
یہ جنگ اگر ہوئی تو صرف ہتھیاروں کی نہیں ہوگی۔ یہ معیشت، توانائی اور بقا کی جنگ ہوگی۔ اس کے اثرات میدان جنگ سے کہیں دور بیٹھے عام انسان تک پہنچیں گے۔ ایک مزدور، ایک کسان، ایک دکاندار سب اس کے اثرات محسوس کریں گے۔ مہنگائی بڑھے گی، روزگار کم ہوگا اور زندگی مزید مشکل ہو جائے گی۔یہی وہ لمحہ ہے جہاں انسان کو رک کر سوچنا چا ہئے۔ کیا ہم نے تاریخ سے کچھ سیکھا ہے یا ہم پھر اسی راستے پر چل پڑے ہیں جہاں انجام صرف تباہی ہے۔ پانی، تیل اور وسائل انسان کی ضرورت ہیںمگر جب یہی ضرورت طاقت کی ہوس میں بدل جائے تو وہی وسائل جنگ کا ایندھن بن جاتے ہیں۔
آج آبنائے ہرمز کے پانی خاموش ہیں مگر ان کی خاموشی میں ایک شور چھپا ہے۔ یہ شور ہمیں خبردار کر رہا ہے کہ اگر عقل اور تدبر سے کام نہ لیا گیا تو یہ پانی بھی خون کی لالی دیکھ سکتے ہیں۔ دنیا کو اب فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اس راستے پر چلتی ہے جہاں ہر جنگ کے بعد صرف راکھ بچتی ہےیا وہ ایک ایسا راستہ اختیار کرتی ہے جہاں پانی زندگی کا استعارہ رہے، موت کا نہیں۔یہ کہانی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ یہ ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ہر قدم تاریخ کا رخ بدل سکتا ہے۔ شاید ابھی بھی وقت ہے کہ دنیا اس آگ کو بجھا دے ورنہ آنے والی نسلیں یہی کہیں گی کہ انسان نے ایک بار پھر اپنی ہی بنائی ہوئی دنیا کو اپنے ہاتھوں سے جلا دیا۔







