اداروں کی نا اہلی، نئی سڑک چند ہفتوں بعد کھود ڈالی، ٹیکس دہندگان کا پیسہ ضائع

ملتان( سپیشل رپورٹر) شہر میں ترقیاتی کاموں کے نام پر انتظامی نااہلی، اداروں کے درمیان عدم تعاون اور حرام خوری کی ایک اور مثال سامنے آ گئی۔ صرف ڈیڑھ ماہ قبل ڈیرہ اڈا سے حسن پروانہ قبرستان، بوہڑ گیٹ روڈ تک نئی کارپٹ کی گئی سڑک کو ڈیڑھ ماہ بعد ہی سیوریج لائن بچھانے کے لیے توڑنا شروع کر دیا گیا ہے، جس نے شہریوں اور تاجروں کو شدید غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ یہ عمل نہ صرف ٹیکس دہندگان کے پیسے کا بے دریغ ضیاع ہے بلکہ اداروں کی نااہلی اور ناقص منصوبہ بندی کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب سیوریج کا کام پہلے سے منصوبہ بندی میں شامل تھا تو سڑک کو اتنی جلدی کیوں بنایا گیا؟ کیا متعلقہ محکموں کے درمیان کوئی رابطہ نہیں یا پھر “پیپر ورک” صرف فائلوں تک محدود رہ گیا ہے؟تاجروں نے اس صورتحال پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ “ایسا لگتا ہے جیسے کسی دشمن ملک کا پیسہ یہاں لگایا جا رہا ہو جسے اس بے دردی سے ضائع کیا جا رہا ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کے اس دور میں کاروبار پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے، اور اب سڑک کھودنے سے آئندہ کم از کم تین ماہ تک کاروبار مکمل طور پر تباہ ہو کر رہ جائے گا۔دکانداروں کے مطابق دکانوں کے سامنے بڑے بڑے پائپ ڈال دیے گئے ہیں، جس سے نہ صرف ان کا آنا جانا مشکل ہو گیا ہے بلکہ گاہکوں کی آمد بھی تقریباً ناممکن ہو چکی ہے۔ “ہم خود بڑی مشکل سے دکان تک پہنچتے ہیں، گاہک کیسے آئے گا؟” ایک تاجر نے بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہا۔ شہری حلقوں نے اس معاملے کی فوری انکوائری اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ سوال بدستور برقرار ہے کہ آخر کب تک افسران کے ہاتھوں عوام کے پیسے سے ایسے “ترقیاتی تجربات” کیے جاتے رہیں گے؟

شیئر کریں

:مزید خبریں