ویمن یونیورسٹی میں بے ضابطگیوں کا طوفان، عارضی رجسٹرار کے متنازع فیصلے

ملتان (سٹاف رپورٹر) ویمن یونیورسٹی ملتان میں انتظامی بے ضابطگیوں میں سابقہ پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے بعد ان کی مبینہ سہولت کار عارضی رجسٹرار ڈاکٹر دیبا شہوار بھی متنازعہ اور غیر قانونی اقدامات کے باعث شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر کلثوم پراچہ پر پہلے ہی تین مختلف تاریخ پیدائش رکھنے، جعلی تجربے کے سرٹیفکیٹس جمع کروانے اور سیرت کانفرنس کے فنڈز ذاتی جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کروانے جیسے سنگین شواہد اور ثبوت موجود ہیں، جبکہ اب انہی کے اثر و رسوخ کے تحت ڈاکٹر دیبا شہوار بھی اختیارات سے تجاوز کرتی نظر آ رہی ہیں۔ تازہ معاملہ 9 اپریل 2026 کے آفس آرڈر (WUM/EST-11/26-376/D) کا ہے، جس کے ذریعے متعدد ملازمین کے تبادلے فوری طور پر عمل میں لائے گئے۔ ان میں محمد فرحان (سینئر کلرک، BPS-14)، آسیہ بی بی (جونیئر کلرک، BPS-11)، ذکریا عثمان (آرڈرلی، BPS-02)، محمد عاصم (نائب قاصد، BPS-01) اور دیگر ڈیلی ویجز ملازمین شامل ہیں، جنہیں مختلف شعبہ جات میں ادھر سے ادھر منتقل کیا گیا۔ تاہم اس سارے معاملے میں سب سے سنگین اور چونکا دینے والا پہلو یہ ہے کہ اس وقت یونیورسٹی میں مستقل وائس چانسلر تعینات ہی نہیں، جو قانونی طور پر ان تمام انتظامی اختیارات کا مجاز ہوتا ہے۔ ایسے میں ایک عارضی رجسٹرار، وہ بھی ایڈیشنل چارج پر، کس قانون اور کس اختیار کے تحت ملازمین کے تبادلے جیسے اہم فیصلے کر رہی ہیں؟ کسی بھی سرکاری یونیورسٹی میں ٹرانسفر اور پوسٹنگ کا اختیار صرف وائس چانسلر کے پاس ہوتا ہے، نہ کہ رجسٹرار کے پاس، خصوصاً اس صورت میں جب وہ عارضی بنیادوں پر تعینات ہو۔ ماہرین کے مطابق وائس چانسلر کی عدم موجودگی میں ایسے فیصلے نہ صرف غیر قانونی بلکہ انتظامی بدنظمی کی واضح مثال ہیں۔ اسی آفس آرڈر میں مزید برآں عالیہ بی بی کو اضافی ذمہ داریاں سونپی گئیں جبکہ نذر اقبال اور حمیرا یاسمین سے سابقہ اضافی ڈیوٹیاں واپس لے لی گئیں، جنہیں بھی ضابطوں کے برعکس اقدامات قرار دیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر دیبا شہوار، جو 19ویں گریڈ میں ہیں، اس سے قبل 21 گریڈ کی سینئر ترین پروفیسر ڈاکٹر قمر رباب کے خلاف ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو خط بھی ارسال کر چکی ہیں، جسے کھلی اختیاراتی مداخلت قرار دیا جا رہا ہے۔ مزید حیران کن بات یہ ہے کہ ڈاکٹر دیبا شہوار کے عارضی تقرر میں محض چند دن باقی رہ گئے ہیں، مگر اس مختصر مدت میں بھی وہ متنازعہ فیصلوں کی بھرمار کر رہی ہیں، جس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ پس پردہ اثر و رسوخ اب بھی یونیورسٹی کے معاملات کو کنٹرول کر رہا ہے۔ تعلیمی حلقوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں سے عارضی رجسٹرار ڈاکٹر دیبا شہوار کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ادارے کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں