جامعہ اسلامیہ: اطہر محبوب دور میں سینکڑوں غیر قانونی بھرتیاں، گورنر کے حکم پر انکوائری شروع

بہاولپور( نیوزرپورٹر)اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب کی طرف سے 2021سے 2023 تک غیر منظور شدہ 360 ملازمتی قوانین کےڈھانچہ لاگوکرنے پر گورنر پنجاب کے حکم پر محکمہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی۔اس انکوائری کمیٹی کے کنوینر سیکرٹری بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن بہاولپوراور ڈائریکٹر کوالٹی ایشورنس اینڈ اکیڈمک ممبر جبکہ سیکشن آفیسر پبلک یونیورسٹیز ، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سیکرٹریٹ لاہور ہو نگے۔تفصیلات کے مطابق گورنر پنجاب کے حکم پر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں2021سے 2023 تک غیر منظور شدہ 360 ملازمتی قوانین کےڈھانچہ(Officer appointment Statutes) میں من پسند تبدیلی کرکے از خود لاگوکرنے پر محکمہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ واضح رہے کہ اس بات کا انکشاف خالد محمود عالی نے گورنر پنجاب سے ایک ملاقات میں 31 جنوری 2024 کو کیا تھا۔ انہوں نے اس سلسلہ میں عدالت عالیہ لاہور بہاولپور بنچ بہاولپور میں ایک رٹ پٹیشن نمبری 2359-22 میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ میری پروموشن کے وقت اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب نے گورنر پنجاب و چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے منظوری لئے بغیر 360 ملازمتی قوانین کےڈھانچہ(Officer appointment Statutes) میں من پسند تبدیلی کرکے از خود لاگوکر دیا ہے جس کی تاحال چانسلر سے منظوری حاصل نہ کی گئی ہے اور مجھے ڈپٹی رجسٹرار کے لئے نااہل قرار دیاجبکہ میں یونیورسٹی میں مختلف عہدوں پر 40 سال سے کام کر رہا ہوں۔نئی تخلیق کردہ نئی اسامیوں میں رجسٹرار ،8 ایڈیشنل رجسٹرار، کنٹرولر امتحانات، 6ایڈیشنل خزانہ دار،8 ڈپٹی رجسٹرار،6 ڈپٹی خزانہ دار، 6ڈپٹی کنٹرولرز کے علاوہ درجنوں کی تعداد میں اسسٹنٹ رجسٹرار ، اسسٹنٹ کنٹرولر امتحانات ، اسسٹنٹ خزانہ دار اور سینکڑوں دیگر اعلیٰ و زیریں اسامیوں کے ملازمتی قوانین کےڈھانچہ(Officer appointment Statutes-1975) میں تبدیلیاں لاکر کم و بیش من پسند2 ہزار سے زائداسامیوں پر بھرتی کا عمل مکمل کیا اور کروڑوں کی کرپشن کی ۔ اس عمل سے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں 35-40 سالوں سے زائد کام کرنے والے اہلکاروں کو موزوں اسامی کے لئے نااہل کردیاگیا۔سابق وائس چانسلر اور دیگر انتظامی عہدوں پر براجمان افسروں نے من پسندوں کو اعلیٰ عہدوں پر بھرتی کرتے ہوئے مالی رشوتوں سے کروڑوں کی بوریاں بھریں۔ اس سے مالی بوجھ بڑھ جانےکی وجہ سے یونیورسٹی دیوالیہ پن کا شکار ہوگئی۔ یہی وجہ ہے کہ یونیورسٹی آج بھی اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہو پا رہی۔

Islamia University Bahawalpur
#iub

شیئر کریں

:مزید خبریں