ملتان میں حادثات تیز، تیز رفتار ٹرک نے رکشہ کچل دیا، 3 خواتین جاں بحق، 6 افراد زخمی

ملتان (نمائندہ خصوصی) ملتان میں ٹریفک حاد ثا ت میں مسلسل اضافہ شہریوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بن گیا ہے۔ تازہ واقعہ گرے والی چوکی سے ہیڈ محمد والا ٹول پلازہ روڈ پر پیش آیا، جہاں تیز رفتار ٹرک اور موٹر بائیک رکشے کے درمیان ہونے والے خوفناک تصادم کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 6 افراد زخمی ہو گئے۔ریسکیو 1122 کے مطابق 9 اپریل کی صبح حادثے کی اطلاع موصول ہوتے ہی ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور 8 منٹ 41 سیکنڈ کےریسپانس ٹائم میں امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب لکڑی کے پھٹے والے موٹر بائیک رکشے میں سوار افراد سٹرابری چننے کے لیے ہیڈ محمد والا کی جانب جا رہے تھے کہ پیچھے سے آنے والے تیز رفتار ٹرک نے رکشے کو زور دار ٹکر مار دی جس کے باعث رکشہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے میں 3 خواتین موقع پر ہی جاں بحق ہو گئیںجن میں فرزانہ زوجہ نعیم (40 سال)، کرن دختر نعیم (14 سال) اور شکیلہ زوجہ شوکت (30 سال) شامل ہیں۔ جبکہ زخمی ہونے والوں میں عدیلہ (12 سال)، سعیدہ مائی (42 سال)، رئیسہ بی بی (25 سال)، صائمہ (25 سال)، رمضان (20 سال) اور ایک نامعلوم شخص شامل ہیں۔ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد نشتر ہسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ جاں بحق افراد کی لاشیں بھی قانونی کارروائی کے لیے ہسپتال منتقل کی گئیں۔ پولیس بھی موقع پر موجود رہی اور واقعے کی مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔یہ افسوسناک واقعہ ملتان میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی معمول بنتی جا رہی ہے۔ تیز رفتاری، اوور لوڈنگ، غیر محفوظ گاڑیاں اور ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کی کمی ایسے حادثات کی بڑی وجوہات بن رہی ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ موٹر بائیک رکشوں میں گنجائش سے زیادہ افراد کو بٹھانا اور بھاری گاڑیوں کی بے قابو رفتار اکثر قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بنتی ہے، مگر متعلقہ ادارے مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ذرائع کےمطابق اگر بروقت اور سخت ٹریفک قوانین پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو ایسے حادثات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹریفک پولیس کی جانب سے نہ صرف چیکنگ کے نظام کو بہتر بنایا جائے بلکہ خطرناک سڑکوں پر خصوصی مانیٹرنگ اور بھاری گاڑیوں کی رفتار پر بھی سخت کنٹرول کیا جائے تاکہ قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں