تعلیم کے کپتان، سیلفی کے میدان میں!

یہ کسی فلم کا فوٹو شوٹ نہیں اور نہ ہی کسی پکنک کے موقع پر لی گئی تصویر ہے۔ نہ تو اس میں موجود افراد کوئی اداکار ہیں اور نہ ہی چنچل موڈ میں سیلفی بنانے والی خواتین جانی پہچانی مگر یہ بھی شوبز کی نمایاں ہستیاں تو سرے سے نہیں۔ تاہم اس سیلفی میں تین ہستیاں صاف پہچانی جا رہی ہیں جن میں سے دو کے ساتھ تو قوم کا ’’روشن‘‘ مستقبل وابستہ ہے البتہ تیسرے کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تمام تر رعایتیں موجود ہیں۔ پہلے دونوں ’’ماہر تعلیم‘‘گردانے جاتے ہیں اور ماہر تعلیم بھی کوئی معمولی نہیں بلکہ وائس چانسلرز ہیں۔ سیاہ چشمے اور سفید بالوں والے بہاولپور کی کنگال قرار پانے والی اسلامیہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر کامران ہیں اور اس سیلفی کے سب سے آخر میں نمایاں ہونے کی بھرپور کوشش فرمانے والے زکریا یونیورسٹی کے ریگولر وائس چانسلر جبکہ ایمرسن یونیورسٹی ملتان کے قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری ہیں۔ سب سے آگے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی ملک ظہیر اقبال چنڑ ہیں۔ ان دونوں وائس چانسلر حضرات کا انتخاب ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب ، وزیر اعلیٰ پنجاب کی خصوصی کمیٹی کی سفارشات پر گورنر پنجاب نے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کے مابین ’’سخت ترین‘‘مقابلہ کروانے کے بعد کیا ہے۔ خوبرو خواتین کے جھرمٹ میں خود کو فٹ کرنے والے دونوں وائس چانسلرز عمر اور عہدے کے لحاظ سے تو بہت بڑے ہو گئے مگر بھرم کے معاملے میں انہوں نے خود کو کتنا بڑا کیا ہے اس پر ہر کوئی اپنی علیحدہ علیحدہ رائے رکھ سکتا ہے۔کاش یہ دونوں ’’ماہرین تعلیم‘‘اپنی اپنی یونیورسٹیوں کو تعلیمی، تدریسی اور تحقیقی میدان میں آگے بڑھانے کے فریم میں بھی خود کو اسی طرح فٹ اور نمایاں رکھیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں