مشرقِ وسطیٰ کشیدگی: عالمی میڈیا میں پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا اعتراف

مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کی فعال سفارتکاری اور حکمت عملی کو عالمی سطح پر بھرپور پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں پاکستان کے کردار کو خطے میں امن کے قیام کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان نے نہ صرف مؤثر ملٹری ڈپلومیسی کا مظاہرہ کیا بلکہ اپنی مسلسل اور متحرک سفارتی کوششوں کے ذریعے ایک ممکنہ بڑی جنگ کو روکنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ متعدد عالمی اداروں نے پاکستان کو خطے میں ایک مضبوط اور متوازن قوت، یعنی “نیٹ ریجنل اسٹیبلائزر” قرار دیا ہے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے روکنے کا اعلان کیا۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں پاکستان کو ایک مؤثر ثالث قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
امریکی میڈیا ادارے فاکس نیوز کے مطابق صدر ٹرمپ نے خود اعتراف کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے رابطوں کے بعد انہوں نے جنگ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق پاکستان کئی ہفتوں سے سفارتی سطح پر سرگرم تھا اور بالآخر خطے میں کشیدگی کم کرنے میں کامیاب رہا۔ اسی طرح گلف نیوز نے پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد امن ثالث قرار دیا جس نے دونوں ممالک کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو مؤثر انداز میں استعمال کیا۔
ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی ورلڈ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ پاکستان نے ایک تاریخی اور مؤثر ثالثی کردار ادا کرتے ہوئے خطے کو بڑے خطرات سے محفوظ بنانے میں مدد دی۔
بھارتی اخبار دی ہندو نے بھی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ان کے کردار کو نمایاں کیا۔
ماہرین کے مطابق پاکستانی قیادت، خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی دانشمندانہ حکمت عملی اور مسلسل کوششوں نے نہ صرف ممکنہ جنگ کو روکا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت اور ذمہ دار کردار کو بھی اجاگر کیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان تنازع میں پاکستان کی ثالثی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ملک عالمی سطح پر ایک مؤثر اور قابلِ اعتماد سفارتی قوت کے طور پر ابھر رہا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں