بیوروکریسی کا جادو، سابقہ انظامیہ کے کارناموں کا ریکارڈ غائب، نئے وائس چانسلرز لاعلم

ملتان (سٹاف رپورٹر) ملک کی جامعات میں انتظامی افراتفری اور اندرونی ساز باز کا ایک اور ہولناک پہلو سامنے آ گیا ہے، وائس چانسلرز کی تبدیلی کے ساتھ ہی اختیارات کا کھیل شروع ہو جاتا ہے اور بیوروکریسی نئے آنے والے سربراہ کو ’’اندھیرے میں رکھنے‘‘ کی منظم حکمت عملی پر عمل پیرا ہو جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق متعدد جامعات میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ جیسے ہی کسی وائس چانسلر کا ٹینیور ختم ہوتا ہے اور نیا وائس چانسلر تعینات ہوتا ہے، تو پرسنل سیکرٹری ٹو وی سی، رجسٹرار، خزانچی اور کنٹرولر امتحانات اہم ریکارڈ، مالی بے ضابطگیوں اور انتظامی فیصلوں سے متعلق حساس معلومات دانستہ طور پر چھپا لیتے ہیں۔ اس عمل کے ذریعے نئے وائس چانسلر کو عملاً بے اختیار اور لاعلم رکھا جاتا ہے۔ ایک چونکا دینے والے واقعے میں ایک سرکاری یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے تعیناتی کے آٹھ ماہ بعد اعتراف کیا کہ انہیں ایک بڑے سکینڈل کا علم ہی نہیں تھا۔ انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’’ مجھے اس معاملے کا کوئی علم نہیں تھا، مجھے خود میڈیا رپورٹس سے پتہ چلا‘‘۔ یہ بیان نہ صرف ادارہ جاتی ناکامی بلکہ ایک خطرناک اندرونی گٹھ جوڑ کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی طرح ایک اور یونیورسٹی میں خزانچی نے گزشتہ آڈٹ رپورٹ ڈیڑھ سال تک چھپا کر رکھی جس کے باعث مالی بے ضابطگیاں مسلسل بڑھتی رہیں جبکہ وائس چانسلر لاعلم رہے۔ ماہرین کے مطابق یہ عمل نہ صرف قواعد کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ بعض رجسٹرار حضرات اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے سابقہ وائس چانسلرز کے ساتھ تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے نئے آنے والے وائس چانسلر کو ماضی کی غیر قانونی سرگرمیوں سے مکمل طور پر بے خبر رکھتے ہیں تاکہ سابقہ انتظامیہ کے’’کارنامے‘‘منظرعام پر نہ آ سکیں۔ مزید حیران کن انکشاف یہ سامنے آیا ہے کہ ایک یونیورسٹی کے رجسٹرار نے نہ صرف سابقہ وائس چانسلر کی غیر قانونی مراعات کو چھپایا بلکہ نئے تعینات ہونے والے وائس چانسلر کو خود ہی’’راستہ دکھاتے‘‘ ہوئے کہا کہ آپ بھی یہ سہولیات لیتے رہیں، سب چلتا ہے۔”ذرائع کے مطابق اس پیشکش پر دونوں فریقین کی خاموش رضامندی نے ادارے کے نظام کو مزید داغدار کر دیا۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان جامعات کو علمی مراکز کے بجائے’’مفادات کے اڈے‘‘بنا رہا ہے، جہاں شفافیت، احتساب اور میرٹ کا تصور دم توڑ چکا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور متعلقہ حکام فوری طور پر ان معاملات کا نوٹس لیں اور ایسے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے جو جان بوجھ کر اداروں کو اندھیرے میں رکھتے ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو خدشہ ہے کہ جامعات میں بدعنوانی اور نااہلی کا یہ گٹھ جوڑ نہ صرف تعلیمی معیار کو تباہ کرے گا بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل پر بھی سنگین اثرات مرتب کرے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں