ملتان: 30 لاکھ فی خاندان میں پاکستانی شہریت فروخت، 11 رکنی گینگ ملوث، ایف آئی اے پر دباؤ

ملتان ( عوامی رپورٹر ) جنوبی پنجاب میں ہزاروں کی تعداد میں افغان شہریوں کو پاکستانی قومیت دینے والے محکمہ بلدیات کے نچلے درجے کے ملازمین اور بعض پرائیویٹ اشخاص کے ایک بڑے گینگ کا انکشاف ہوا ہے جس نے مبینہ طور پر کروڑوں روپیہ لیکرملتان اور دیکر اضلاع میں افغان شہریوں کو پاکستانی شہریت دلوادی ہے اور ان کی فیملی ٹری بھی بنا دی ہے ۔ ایف آئی ملتان نے مختلف یونین ہائے کونسل کے ملازمین اور پرائیویٹ افراد کے خلاف مقدمہ درج تو کرلیا ہے مگر ایف آئی اے پر بعض اطراف سے شدید دباؤ ہے کہ اس معاملے کو دبا دیا جائے اور یہ گروہ جو مبینہ طور پر فی خاندان 30 لاکھ روپیہ تک وصول کرتا تھا پیسوں کے توڑے لیے سفارشیوں کے ساتھ ایف آئی اے ملتان پر دباؤ ڈالے ہوئے ہے۔ حیران کن طور پر ایف آئی اے ملتان نے نعیم نامی ایک شخص کو حراست میں لینے کے بعد رہا کر دیا۔ ابتدائی طور پر اس گینگ میں شامل افراد میں مرزا حماد، اسلم مسیح، جیم جوزف خواجہ رفیق سیکرٹری یونین کونسل اور محمد نعیم کے نام سامنے آئے ہیں ۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ مجموعی طور پر 11 رکنی گینگ ہے جو اس گھنائونے دھندے میں ملوث ہے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے ملتان میں افغان شہریوں کے جعلی پیدائشی سرٹیفکیٹ کی غیر قانونی رجسٹریشن کے معاملے میں ایک کمزور سی ایف آئی آر درج کر کے ایک ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم اس کارروائی میں نادرا کے اندرونی نظام کی کمزوریوں اور ممکنہ ملی بھگت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایف آئی اے کے سب انسپکٹر محمد سلیمان سعید نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم محمد حماد ولد مہر دین کو عیدگاہ چوک سے گرفتار کیا لیکن یہ دیکھنا باقی ہے کہ اتنی بڑی سکیم میں صرف ایک چھوٹا ملزم ہی کیوں پکڑا گیا؟ کیا ایف آئی اے کے پاس باقی ملزمان کے ٹھکانوں کی کوئی اطلاع نہیں تھی یا پھر یہ کارروائی محض ایک سہولت کاری ہے۔ ملزم کے قبضے سے ایک موبائل فون، چار اصل شناختی کارڈز، سولہ فوٹو کاپیاں، ایچ بی ایل اور واپڈا کے بل اور ایک خالی چیک برآمد ہوئے ہیں۔ ملزم محمد حماد نے ابتدائی تفتیش کے دوران اعتراف کیا ہے کہ اس نے یونین کونسل سیکرٹری اسلم مسیح، جیمز جوزف اور ایجنٹ عمران و نعیم کی مدد سے افغان شہریوں کے جعلی پیدائشی سرٹیفکیٹ تیار کروائے اور انہیں نادرا کے ریکارڈ میں مختلف خاندانوں کے شجرہ نسب میں داخل کروایا اور فی خاندان تیس لاکھ روپے تک بھی وصول کیے جاتے تھے جو متعلقہ سیکرٹریز اس گروہ میں شامل تمام افراد میں تقسیم کرتے تھے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ نادرا کا کمپیوٹرائزڈ نظام بغیر اندرونی مدد کے ان جعلی اندراجات کو کیسے قبول کر لیتا رہا ہے اور کیا ایف آئی اے نادرا کے اندرونی نظام کو چیلنج کرنے کی ہمت رکھتی ہےیا پھر یہ معاملہ بھی اسی طرح ٹھنڈا پڑ جائے گا جیسے اس سے پہلے ہزاروں کیسز ٹھنڈے پڑ چکے ہیں؟ کیا نادرا کے کچھ اہلکار بھی اس سکیم میں ملوث ہیں؟ ایف آئی اے نے اس حوالے سے صرف یہ کہا ہے کہ نادرا حکام کے کردار کا تعین مزید تفتیش کے دوران کیا جائے گا جو اپنی جگہ ایک اور تاخیر اور ممکنہ پردہ پوشی کی طرف اشارہ ہے۔ کیا یہ محض ایک حکمت عملی ہے تاکہ بڑے افسران کو بچایا جا سکے؟ ایف آئی اے نے پانچ نامزد ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، ایف آئی آر نمبر FIR-CC-MLTN/ACC-15/26 کے تحت یہ مقدمہ دفعات 420، 468، 471، 109 تعزیرات پاکستان اور دفعہ 30 نادرا آرڈیننس 2000 کے تحت درج کیا گیا ہے، بتایا گیا ہے کہ سیکرٹری یونین کونسلز اور نچلے عملے پر مشتمل یہ گینگ افغان شہریوں کو پاکستانی شہریت دلوانے کے علاوہ پراپرٹی کے مقدمات میں زندہ افراد کے بھی ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرتا رہا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں